Recitation
Next: 10_55
Arabic
وَلَوۡ أَنَّ لِكُلِّ نَفۡسٖ ظَلَمَتۡ مَا فِي ٱلۡأَرۡضِ لَٱفۡتَدَتۡ بِهِۦۗ وَأَسَرُّواْ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُاْ ٱلۡعَذَابَۖ وَقُضِيَ بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ
Urdu
اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے مگر ان کے درمیان پُورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا
English
And if each soul that wronged had everything on earth, it would offer it in ransom. And they will confide regret when they see the punishment; and they will be judged in justice, and they will not be wronged
Tafsir — Bayan ul Quran
عرب کے لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اگر تم نے اپنی اصلاح نہ کی تو تم کو آخرت کا عذاب پکڑ لے گا۔ اس کے جواب میںوہ آپ کی بات کا مذاق اڑانے لگے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔ وہ دراصل پیغمبر اسلام کی تنبیہ کو بے وزن سمجھ رہے تھے، نہ کہ نفس آخرت کو۔ پیغمبر اسلام کی عظمت اس وقت تک مسلّم نہ ہوئی تھی۔ اس وقت آپ کے مخاطبین آپ کو ایک معمولی انسان کے روپ میں دیکھتے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ ایسے معمولی انسان کی بات نہ ماننے سے ان کے اوپر خدا کا عذاب کیسے آجائے گا۔ انھیں آپ کے نمائندۂ خدا ہونے پر شک تھا، نہ کہ خود خدا اور آخرت پر۔ یہ تقابل حقیقۃً اقرار آخرت اور انکار آخرت کے درمیان نہ تھا۔ بلکہ بڑی شخصیت کے دین اور چھوٹی شخصیت کے دین کے درمیان تھا۔ وہ ماضی کے مشہور بزرگوں کے ساتھ اپنے کو منسوب کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو مسلّمہ شخصیتوں کے دین پر سمجھتے تھے۔ اس کے مقابلہ میں جب وہ سامنے کے پیغمبر کو دیکھتے تو وہ ان کو ایک معمولی انسان کے روپ میں نظر آتا۔ ان کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ تاریخ کی جن بڑی بڑی شخصیتوں کے ساتھ وہ اپنے کو وابستہ کیے ہوئے ہیں، ان سے وابستگی ان کے لیے باعث نجات نہ ہو۔ بلکہ نجات کے لیے یہ ضروری ہو کہ وہ اپنے آپ کو اس شخص کے ساتھ وابستہ کریں جس کو بظاہر کوئی تقدس اور عظمت حاصل نہیں۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کی وجہ سے ان کو یہ جرأت ہوئی کہ وہ آپ کا مذاق اڑائیں۔ آدمی ایک حساس مخلوق ہے۔ وہ تکلیف کو برداشت نہیںکرسکتا۔ دنیا میں جب تک اس کو عذاب کا سامنا نہیں ہے وہ حق کا مذاق اڑاتا ہے۔ وہ اس کو بے نیازی کے ساتھ ٹھکرا دیتاہے۔ مگر جب آخرت کا عذاب سامنے ہوگا تو اس پر اتنی گھبراہٹ طاری ہوگی کہ سب کچھ اس کو حقیر معلوم ہونے لگے گا۔ ساری دنیا کی دولت اور تمام دنیا کی نعمت بھی اگر اس کے پاس ہو تو عذاب کے مقابلہ میں وہ اتنی بے قیمت نظر آئے گی کہ وہ چاہے گا کہ سب کچھ دے کر صرف اتنا ہوجائے کہ وہ اس تکلیف سے نجات پاجائے۔ مگر آخرت کا مسئلہ کوئی سودے بازی کا مسئلہ نہیں۔ وہ تو اپنے كيے کا انجام بھگتنے کا مسئلہ ہے۔ زندگی اورموت کے بارے میں خدا کا جو منصوبہ ہے اس کا یہ لازمی جزء ہے۔ خدائی انصاف کا تقاضا ہے کہ وہ ہو۔ اور خدائی قدرت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ بہر حال ہو کر رہے گا۔ اس کے پیش آنے میں جو کچھ دیر ہے، وہ صرف اس مقررہ وقت کے آنے کی ہے جب کہ موجودہ امتحان کی مدت ختم ہو اور سارے انسان خدا کے یہاں اپنے آخری انجام کا فیصلہ سننے کے لیے حاضر کرديے جائیں۔