Recitation

Next: 11_25


Arabic

۞مَثَلُ ٱلۡفَرِيقَيۡنِ كَٱلۡأَعۡمَىٰ وَٱلۡأَصَمِّ وَٱلۡبَصِيرِ وَٱلسَّمِيعِۚ هَلۡ يَسۡتَوِيَانِ مَثَلًاۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ


Urdu

اِن دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟ کیا تم (اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟


English

The example of the two parties is like the blind and deaf, and the seeing and hearing. Are they equal in comparison? Then, will you not remember


Tafsir — Bayan ul Quran

اخبات کے معنی ہیں عاجزی کرنا۔ عربی میں کہتے ہیں ہو خبیت القلب (وہ شکستہ دل ہے)۔ یہی ایمان کا خلاصہ ہے۔ ایمان نہ کوئی وراثت ہے اور نہ کسی لفظی مجموعہ کی لسانی ادائيگی۔ ایمان ایک دریافت ہے۔ آدمی جب اپنے سمع وبصر (بالفاظ دیگر شعور) کو استعمال کرکے خدا کو پاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں اپنی حیثیت کا ادراک کرتاہے تو اس وقت اس کے اوپر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اسی کا نام عجز (اخبات) ہے۔ عجز خدا کے مقابلہ میں اپنی حیثیت واقعی کی پہچان کا لازمی نتیجہ ہے۔ ایمان، اخبات اور عمل صالح تینوں ایک ہی حقیقت کے مختلف پہلو ہیں۔ ایمان خدا کے وجود اور اس کی صفات کمال کی شعوری دریافت ہے۔ اخبات اس قلبی حالت کا نام ہے جو خدا کی دریافت کے نتیجہ میں لازماً آدمی کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ عمل صالح اسی شعور اور اسی کیفیت سے پیدا ہونے والی خارجی صورت ہے۔ آدمی جب خدا کے ذہن سے سوچتاہے۔ جب اس کا دل خدائی کیفیات سے بھر جاتاہے تو اس وقت اس کے عین فطری نتیجے کے طور پر اس کی ظاہری زندگی خدائی عمل میں ڈھل جاتی ہے۔ اسی کا نام عمل صالح ہے۔ جو شخص ایمان، اخبات اور عمل صالح کا پیکر بن جائے وہی خدا کا مطلوب انسان ہے۔ اور وہی وہ انسان ہے جس کو جنت کے ابدی باغوں میں بسایا جائے گا۔ دنیا میں اعلیٰ ترین امتحانی حالات پیدا کرکے یہ دیکھا جارہا ہے کہ کون اپنے آپ کو کیا ثابت کرتاہے۔ ایک گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر (شعور) کو صحیح طور پر استعمال کرکے حقیقت واقعہ کو جانا اور اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال لیا۔ یہ دیکھنے اور سننے والے لوگ ہیں۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے اپنے سمع وبصر کو صحیح طورپر استعمال نہیں کیا۔ اس کو نہ حقیقت واقعہ کی معرفت حاصل ہوئی اور نہ وہ اپنے آپ کو اس کے مطابق ڈھال سکا۔ یہ اندھے اور بہرے لوگ ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دونوں بالکل مختلف قسم کے انسان ہیں۔ اور دو مختلف انسانوں کا انجام ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔


Connections

  • Previous: 11_23
  • Next: 11_25
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes