Recitation

Next: 11_6


Arabic

أَلَآ إِنَّهُمۡ يَثۡنُونَ صُدُورَهُمۡ لِيَسۡتَخۡفُواْ مِنۡهُۚ أَلَا حِينَ يَسۡتَغۡشُونَ ثِيَابَهُمۡ يَعۡلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعۡلِنُونَۚ إِنَّهُۥ عَلِيمُۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ


Urdu

دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں


English

Unquestionably, they the disbelievers turn away their breasts to hide themselves from Him. Unquestionably, [even] when they cover themselves in their clothing, Allah knows what they conceal and what they declare. Indeed, He is Knowing of that within the breasts


Tafsir — Bayan ul Quran

قریش کے بعض سرداروں نے ایسا کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی تو وہ بے پروائی کے ساتھ اٹھے۔ اپنی چادر اپنے اوپر ڈالی اور روانہ ہوگئے۔ یہ دراصل کسی بات کو نظر انداز کرنے کی ایک صورت ہے۔ کوئی آدمی جب داعی کو حقیر سمجھے اور اس کے مقابلہ میں اپنے کو برتر خیال کرے تو اس وقت وہ اسی قسم کا رویہ اختیار کرتاہے۔ مگر آدمی بھول جاتاہے کہ جس نفسیات کے تحت وہ ایسا کر رہا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے۔ یہ صرف ایک انسان (داعی) کو نظر انداز کرنا نہیں ہے بلکہ خود خدا کو نظر انداز کرنا ہے جو ہر کھلے اور چھپے کو جاننے والا ہے۔ پھر آدمی کا حال س وقت کیا ہوگا جب وہ خدا کا سامنا کرے گا۔ وہ دیکھے گا کہ جس خدا کو اس نے نظر انداز کیا تھا وہی وہ ہستی تھا جس سے اس کو وہ سب کچھ ملا تھا جو اس کے پاس تھا۔ حتی کہ وہ اسباب بھی جن کے بَل پر اس نے خدا کی بات کو نظر انداز کردیا تھا۔ آدمی خدا کی دنیا میں ہے اور بالآخر وہ خدا کی طرف جانے والا ہے۔ مگر وہ اس طرح رہتا ہے جیسے کہ نہ آج خدا سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ آئندہ اس کا خدا سے کوئی واسطہ پڑنے والا ہے۔


Connections

  • Previous: 11_4
  • Next: 11_6
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes