Recitation
Next: 11_59
Arabic
وَلَمَّا جَآءَ أَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُودٗا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ مَعَهُۥ بِرَحۡمَةٖ مِّنَّا وَنَجَّيۡنَٰهُم مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيظٖ
Urdu
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے بچا لیا
English
And when Our command came, We saved Hud and those who believed with him, by mercy from Us; and We saved them from a harsh punishment
Tafsir — Bayan ul Quran
جو لوگ خدا کی بات کو نظر انداز کردیں، خدا بھی انھیں نظر انداز کردیتا ہے۔ یہ واقعہ جو موجودہ دنیا میں جزئی طورپر پیش آتا ہے یہی قیامت میں کلی اور آخری طورپر پیش آئے گا۔ اس وقت تمام سرکش لوگ خدا کی رحمتوں سے دور کرديے جائیںگے۔ اور خدا کی رحمت صرف ان لوگوں کا حصہ ہوگی جو دنیا کی زندگی میں خدا کے تابع اور وفادار بن کررہے تھے۔ اس دنیا میں خدا نے ’’استخلاف‘‘ کا اصول رائج کیا ہے۔ یعنی ایک قوم کو ہٹانے کے بعد دوسری قوم کو اس کی جگہ زمین پر متمکن کرنا۔ دنیا میں یہ تمکن امتحان کی غرض سے وقتی طور پر ہوتا ہے۔آخرت میں خدا کی معیاری دنیا میں یہ تمکن انعام کے طورپر مستقل طور پر سچے اہل ایمان کو حاصل ہوگا۔ موجودہ امتحانی دنیا کا نظام کچھ اس طرح بنا ہے کہ یہاں آدمی ہمیشہ خیر اور شر کے درمیان ہوتا ہے۔ اس کو آزادی ہوتی ہے کہ دونوں میں سے جس راہ کو چاہے اختیار کرے۔ مزید یہ کہ اکثر حالات میں اس دنیا میں شر کا غلبہ ہوتا ہے۔ خیر کی جانب صرف نشانیوں (نظری دلائل) کا زور ہوتاہے۔ دوسری طرف شر کی جانب مادی طاقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اتنی بڑی مقدار میں کہ اس کے علم بردار سرکشی اور گھمنڈ میں مبتلا ہوکر ماحول کے اندر ایسی دباؤ کی فضا پیدا کرتے ہیں کہ عام آدمی حق کی طرف بڑھنے کی جرأت ہی نہ کرے۔