Recitation
Next: 11_82
Arabic
قَالُواْ يَٰلُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُوٓاْ إِلَيۡكَۖ فَأَسۡرِ بِأَهۡلِكَ بِقِطۡعٖ مِّنَ ٱلَّيۡلِ وَلَا يَلۡتَفِتۡ مِنكُمۡ أَحَدٌ إِلَّا ٱمۡرَأَتَكَۖ إِنَّهُۥ مُصِيبُهَا مَآ أَصَابَهُمۡۚ إِنَّ مَوۡعِدَهُمُ ٱلصُّبۡحُۚ أَلَيۡسَ ٱلصُّبۡحُ بِقَرِيبٖ
Urdu
تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ “اے لوطؑ، ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جا اور دیکھو، تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے مگر تیر ی بیوی (ساتھ نہیں جائے گی) کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے
English
The angels said, “O Lot, indeed we are messengers of your Lord; [therefore], they will never reach you. So set out with your family during a portion of the night and let not any among you look back - except your wife; indeed, she will be struck by that which strikes them. Indeed, their appointment is [for] the morning. Is not the morning near
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت لوط ابتداء ً آنے والے نوجوانوں کو انسان سمجھ رہے تھے۔جب حضرت لوط کی پریشانی بڑھی اور وہ اپنے کو خطرہ ميں محسوس کرنے لگے تو انھوںنے بتایا کہ ہم فرشتے ہیں۔ اور خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ یعنی یہ معاملہ انسانی معاملہ نہیں بلکہ خدائی معاملہ ہے۔ وہ نہ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ تمھارا۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب قوم لوط کے لوگ آگے بڑھنے سے نہ رکے تو ایک فرشتہ نے اپنا بازو گھمایا۔ اس کے بعد وہ سب کے سب اندھے ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے لوٹ گئے کہ— بھاگو، لوط کے مہمان تو بڑے جادو گر معلوم ہوتے ہیں۔ جب خدا کسی قوم کو اس کی سرکشی کی بنا پر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ اس پورے علاقے کے لیے ایک عام حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر اس علاقے میں بسنے والے تمام جاندار خدائی عذاب کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔ البتہ خدا کے خصوصی انتظامات کے تحت وہ لوگ اس سے بچا لیے جاتے ہیں جنھوں نے ان سرکش لوگوں کے اوپر حق کا اعلان کیا ہو۔ اعلانِ حق خدا کی پکڑ سے بچنے کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ موجودہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ حضرت لوط کی بیوی کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ وہ دل سے حضرت لوط کے ساتھ نہ تھی۔ مگر آخر وقت میں جب حضرت لوط یہ کہہ کر بستی سے نکلے کہ صبح تک یہاں عذاب آجائے گا تو وہ بھی آپ کے قافلہ کے ساتھ ہوگئی۔ تاہم ابھی یہ لوگ راستے میں تھے کہ پیچھے زلزلہ اور طوفان کا شور سنائی دیا۔ حضرت لوط اور ا ن کے مخلص ساتھیوں نے پیچھے توجہ نہ دی۔ مگر حضرت لوط کی بیوی پیچھے مڑ کر دیکھنے لگی اور جب اس کو دھواں اور شور دکھائی دیا تو اس کی زبان سے نکلا واقوماہ (ہائے میری قوم)۔اس وقت عذاب کا ایک پتھر آکر اس کو لگا اور وہیں اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس میں سبق یہ ہے کہ ایک شخص اگر واقعۃً خدا اور رسول کا وفادار نہیں ہے تو کسی اور محرک کے تحت قافلۂ حق کے ساتھ لگ جانے سے وہ نجات نہیں پائے گا۔ اس کی کمزوری کہیں نہ کہیں ظاہر ہوگی اور وہیں وہ بیٹھ کر رہ جائے گا۔