Recitation
Next: 12_102
Arabic
۞رَبِّ قَدۡ ءَاتَيۡتَنِي مِنَ ٱلۡمُلۡكِ وَعَلَّمۡتَنِي مِن تَأۡوِيلِ ٱلۡأَحَادِيثِۚ فَاطِرَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ أَنتَ وَلِيِّۦ فِي ٱلدُّنۡيَا وَٱلۡأٓخِرَةِۖ تَوَفَّنِي مُسۡلِمٗا وَأَلۡحِقۡنِي بِٱلصَّـٰلِحِينَ
Urdu
اے میرے رب، تو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا زمین و آسمان کے بنانے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا
English
My Lord, You have given me [something] of sovereignty and taught me of the interpretation of dreams. Creator of the heavens and earth, You are my protector in this world and in the Hereafter. Cause me to die a Muslim and join me with the righteous
Tafsir — Bayan ul Quran
غیر مومن ہر چیز کو انسان کے اعتبارسے دیکھتا ہے اور مومن ہر چیز کو خدا کے اعتبار سے۔ حضرت یوسف کو اعلیٰ حکومتی عہدہ ملا تو اس کو بھی انھوںنے خدا کا عطیہ قرار دیا۔ ان کو تاویل اور تعبیر کا علم حاصل ہوا تو انھوںنے کہا کہ یہ مجھ کو خدا نے سکھایا ہے۔ ان کے اپنوں نے انھیں مصیبت میں ڈالا تو اس کو بھی انھوں نے اس نظر سے دیکھا کہ یہ خدا کی لطیف تدبیریں تھی جن کے ذریعہ وہ مجھ کو ارتقائی سفر کرارہا تھا۔ خدا کی عظمت کے احساس نے ان سے ذاتی عظمت کے تمام احساسات چھین ليے تھے۔ دنیوی بلندی کی چوٹی پر پہنچ کر بھی ان کی زبان سے جو الفاظ نکلے وہ یہ تھے — خدایا، تو ہی تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ تو ہی میرے سب کام بنانے والا ہے۔ تو دنیا اور آخرت میں میری مدد فرما۔ مجھ کو ان لوگوں میں شامل فرما جو دنیا میں تیری پسند پر چلنے کی توفیق پاتے ہیں اور آخرت میں تیرا ابدی انعام حاصل کرتے ہیں۔