Recitation
Next: 12_111
Arabic
حَتَّىٰٓ إِذَا ٱسۡتَيۡـَٔسَ ٱلرُّسُلُ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُمۡ قَدۡ كُذِبُواْ جَآءَهُمۡ نَصۡرُنَا فَنُجِّيَ مَن نَّشَآءُۖ وَلَا يُرَدُّ بَأۡسُنَا عَنِ ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡمُجۡرِمِينَ
Urdu
(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہو گئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا، تو یکا یک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی پھر جب ایسا موقع آ جاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا
English
[They continued] until, when the messengers despaired and were certain that they had been denied, there came to them Our victory, and whoever We willed was saved. And Our punishment cannot be repelled from the people who are criminals
Tafsir — Bayan ul Quran
تاریخ بتاتی ہے کہ جو لوگ رسالت اور پیغمبری کو مانتے تھے وہ بھی اس وقت اس کے منکر ہوگئے، جب کہ خود اپنی قوم کے اندر سے ایک شخص پیغمبر ہوکر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ماضی کا پیغمبر تاریخی طورپر ثابت شدہ پیغمبر بن چکا ہوتاہے، جب کہ حال کا پیغمبر ایک نزاعی شخصیت ہوتاہے۔ تاریخی پیغمبر کوماننا ہمیشہ انسان کے لیے آسان ترین کام رہا ہے اور نزاعی پیغمبر کو ماننا ہمیشہ اس کے لیے مشکل ترین کام۔ عاد اور ثمود اور مدین اور قوم لوط وغیرہ کی تباہ شدہ بستیاں قریش کے آس پاس کے علاقوں میں موجود تھیں۔ وہ اپنے سفروں کے دوران ان کو دیکھتے تھے۔ یہ آثار زبانِ حال سے کہہ رہے تھے کہ پیغمبر کو نزاعی دور میں نہ پہچاننے ہی کی وجہ سے ان قوموں پر خدا کا عذاب آیااور وہ ہلاک کردی گئیں۔ اس کے باوجود قریش نے ان سے سبق نہیں لیا۔ اس کی وجہ انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ ایک غلط کام کرتاہے مگر کچھ خود ساختہ خیالات کی بنا پر اپنے آپ کو غلط کاروں کی فہرست سے الگ کرلیتاہے۔ سورہ یوسف کی آیت 110 کی تشریح سورہ بقرہ کی آیت 214 سے ہورہی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے— ’’کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل کرديے جاؤ گے۔ حالانکہ تم پر ابھی وہ حالات گزرے ہی نہیں جو تم سے پہلے والوں پر گزرے تھے۔ ان کو سختی اور تکلیف پہنچی اور وہ ہلا مارے گئے۔یہاں تک کہ رسول اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی۔ جان لو، خدا کی مدد قریب ہے‘‘۔ خدا ہمیشہ داعی کی مدد کرتاہے۔ مگر مدد مدعو کے خلاف داعی کے حق میں خدا کا فیصلہ ہوتا ہے، اسی لیے یہ مدد ہمیشہ اس وقت آتی ہے جب کہ دعوتی جدوجہد اپنی تکمیل کے آخری مرحلہ میں پہنچ چکی ہو، خواہ اس تاخیر کی وجہ سے دعوت دینے والوں پر مایوسی کے احساسات طاری ہونے لگیں۔ ’’اور آخرت کا گھر متقیوں کے لیے زیادہ بہتر ہے‘‘— اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اہل ایمان کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے وہ آخرت میں ان کے ساتھ كيے جانے والے سلوک کی علامت ہوتاہے۔ دنیا میں خدا حق کے داعیوں کی اس طرح مدد کرتاہے کہ ان کی بات تمام دوسری باتوں پر بلند وبالا ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے دشمنوں کی تمام سازشوں اور مخالفتوں کے باوجود اپنا مشن پورا کرنے میں کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔ یہی عزت اور سر بلندی ان کو آخرت میں زیادہ کامل اور معیاری صورت میں حاصل ہوگی۔