Recitation
Next: 12_21
Arabic
وَشَرَوۡهُ بِثَمَنِۭ بَخۡسٖ دَرَٰهِمَ مَعۡدُودَةٖ وَكَانُواْ فِيهِ مِنَ ٱلزَّـٰهِدِينَ
Urdu
آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے
English
And they sold him for a reduced price - a few dirhams - and they were, concerning him, of those content with little
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت یوسف کے بھائی جب آپ کو اندھے کنویں میں ڈال کر چلے گئے تو تین دن بعد ایک تجارتی قافلہ ادھر سے گزرا جو مدین سے مصر جارہا تھا۔ قافلہ کے ایک آدمی نے پانی کی خاطر کنویں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (جو اس وقت تقریباً 16 سال کے تھے) ڈول پکڑ کر باہر آگئے۔ یہ بردہ فروشی کا زمانہ تھا۔ اس لیے قافلہ والے خوش ہوئے کہ وہ مصر لے جاکر لڑکے کو فروخت کرسکیں گے۔ چنانچہ جب وہ مصر پہنچے تو اپنے دیگر سامانوں کے ساتھ حضرت یوسف کو بھی بازار میں رکھا۔ وہاں ایک آدمی نے ہونہار لڑکا دیکھ کر آپ کو بیس درہم میں خرید لیا۔ حضرت یوسف کے بھائی آپ کو بے وطن کرکے کنویں میں ڈال چکے تھے۔ قافلہ والوں نے غلام کی حیثیت سے فروخت کردیا۔ اس کے بعد مصر کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کی بیوی (زلیخا) نے آپ کو قید خانہ میں قید کرادیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان تمام مراحل کو آپ کے لیے عزّت و سربلندی تک پہنچنے کا زینہ بنا دیا — کس قدر فرق ہے علم انسانی میںاور علم خداوندی میں۔