Recitation

Next: 12_47


Arabic

يُوسُفُ أَيُّهَا ٱلصِّدِّيقُ أَفۡتِنَا فِي سَبۡعِ بَقَرَٰتٖ سِمَانٖ يَأۡكُلُهُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٞ وَسَبۡعِ سُنۢبُلَٰتٍ خُضۡرٖ وَأُخَرَ يَابِسَٰتٖ لَّعَلِّيٓ أَرۡجِعُ إِلَى ٱلنَّاسِ لَعَلَّهُمۡ يَعۡلَمُونَ


Urdu

اس نے جا کر کہا “یوسفؑ، اے سراپا راستی، مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں جن کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس جاؤں اور شاید کہ وہ جان لیں


English

[He said], “Joseph, O man of truth, explain to us about seven fat cows eaten by seven [that were] lean, and seven green spikes [of grain] and others [that were] dry - that I may return to the people; perhaps they will know [about you]


Tafsir — Bayan ul Quran

حضرت یوسف نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات موٹی گائیں اور سات ہری بالیں سات برس ہیں۔ ان میں لگا تار اچھی پیداوار ہوگی۔ حیوانات اور نباتات خوب بڑھیں گے۔ اس کے بعد سات سال قحط پڑے گا جس میں تم سارا پچھلا اندوختہ کھا کر ختم کر ڈالو گے۔ صرف آئندہ بیچ ڈالنے کے لیے تھوڑا سا باقی رہ جائے گا۔ یہ بعد کے سات سال گویا دبلی گائیں اور سوکھی بالیں ہیں جو پچھلی گایوں اور ہری بالوں کا خاتمہ کردیں گی۔ اسی کے ساتھ حضرت یوسف نے اس کی تدبیر بھی بتادی۔ آپ نے کہا کہ پہلے سات سال میں جو پیداوار ہواس کو نہایت حفاظت سے رکھو اور کفایت کے ساتھ خرچ کرو۔ ضروری خوراک سے زیادہ جو غلّہ ہے اس کو بالوں کے اندر رہنے دو۔ اس طرح وہ کیڑے وغیرہ سے محفوظ رہے گا۔ اور سات سال کی پیداوار چودہ سال تک کام آئے گی۔ مزید آپ نے یہ خوش خبری بھی سنا دی کہ بعد کے سات سالہ قحط کے بعد جو سال آئے گا وہ دوبارہ فراوانی کا سال ہوگا۔ اس میں خوب بارش ہوگی، کثرت سے دودھ اور پھل لوگوں کو حاصل ہوںگے۔ اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک عجیب خواب دکھایا اور حضرت یوسف کے ذریعہ اس کی کامیاب تعبیر ظاہر فرمائی۔ اس طرح آپ کے لیے یہ موقع فراہم کیا گیا کہ مصر کے نظام حکومت میں آپ کو نہایت اعلیٰ مقام حاصل ہو۔


Connections

  • Previous: 12_45
  • Next: 12_47
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes