Recitation
Next: 13_15
Arabic
لَهُۥ دَعۡوَةُ ٱلۡحَقِّۚ وَٱلَّذِينَ يَدۡعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسۡتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيۡءٍ إِلَّا كَبَٰسِطِ كَفَّيۡهِ إِلَى ٱلۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَٰلِغِهِۦۚ وَمَا دُعَآءُ ٱلۡكَٰفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَٰلٖ
Urdu
اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف
English
To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus]. And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e. futility]
Tafsir — Bayan ul Quran
اگر آپ ہاتھ پھیلا کر سمندر کے پانی کو پکاریں تو ایسا کبھی نہیں ہوگا کہ سمندر آپ کی پکار کو سنے اور اس کا پانی سمندر کی گہرائیوں سے نکل کر آپ کی طرف آئے اور آپ کے کھیتوں اور باغوں کو سیراب کرے۔ مگر اسی سمندر کے ساتھ ایسا ہوتاہے کہ قدرت کے قانون کے تحت اس کا پانی نمک کے جز کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتاہے۔ پھر گرمی اور کشش اور ہواکے عمل سے متحرک ہو کر وہ آپ کی بستی کے اوپر آتاہے اور میٹھے پانی کی صورت میں برس کر آپ کی زمین کو سیراب کردیتاہے۔ اس سے معلو م ہوا کہ سمندر بظاہر عظیم ہونے کے باوجود سراسر عاجز ہے اس کو کسی قسم کا ذاتی اختیار حاصل نہیں۔ یہی اس دنیا کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ایسی حالت میں عقل مند انسان صرف وہ ہے جو خالق کو پوجے، نہ کہ مخلوق کو، جو چیزوں کے رب کو اپنا مرکز توجہ بنائے، نہ کہ خود چیزوں کو۔