Recitation

Next: 13_19


Arabic

لِلَّذِينَ ٱسۡتَجَابُواْ لِرَبِّهِمُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱلَّذِينَ لَمۡ يَسۡتَجِيبُواْ لَهُۥ لَوۡ أَنَّ لَهُم مَّا فِي ٱلۡأَرۡضِ جَمِيعٗا وَمِثۡلَهُۥ مَعَهُۥ لَٱفۡتَدَوۡاْ بِهِۦٓۚ أُوْلَـٰٓئِكَ لَهُمۡ سُوٓءُ ٱلۡحِسَابِ وَمَأۡوَىٰهُمۡ جَهَنَّمُۖ وَبِئۡسَ ٱلۡمِهَادُ


Urdu

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کر لی ہے اُن کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیا ر ہو جائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے، بہت ہی برا ٹھکانا


English

For those who have responded to their Lord is the best [reward], but those who did not respond to Him - if they had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby. Those will have the worst account, and their refuge is Hell, and wretched is the resting place


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا میں خدا کا یہ قانون ہے کہ خواہ وقتی طور پر میل اور جھاگ ابھر کر اوپر آجائے مگر بالآخر جس چیز کو یہاں مقام ملتاہے وہ وہی ہے جو حقیقی ہے اور جس میں نفع بخشی کی صلاحیت ہے، آخرت کے اعتبار سے بھی انسانوں کا معاملہ یہی ہے۔ دنیا میں کچھ لوگ اپنی اضافی حیثیت کی بنا پر نمایاں ہوسکتے ہیں۔ مگر آخرت میں وہی لوگ اونچی جگہ پائیں گے جو حقیقی اوصاف کے مالک ہیں۔ دنیا میں جو لوگ حق کی پکار پر لبیک نہیں کہتے، اس کی وجہ ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ بے آمیز حق کی طرف بڑھنے میں اُنھیں دنیا کے فائدے ہاتھ سے جاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو حق کو نظر انداز کرنے کی قیمت ہمیشہ یہ ملتی ہے کہ وہ دنیا میں عزت اور مقبولیت اور خوش حالی کے مالک بن جاتے ہیں۔ وہ حق کا انکار کرکے اونچی گدیوں پر سرفراز نظر آتے ہیں۔ مگر ان چیزوں کی حیثیت میل اور جھاگ سے زیادہ نہیں۔ آخرت میں یہ سارے لوگ وقتی جھاگ کی طرح دور پھینکے جاچکے ہوں گے۔ اور وہی لوگ نمایاں نظر آئیں گے جنھوں نے تمام وقتی فائدوں کو نظر انداز کرکے اپنے آپ کو حق کے حوالے کیا تھا۔ جو لوگ دنیا کی حیثیت اور دنیا کے فائدوں کواتنی اہمیت دے رہے ہیں کہ اس کی خاطر حق کو نظر انداز کردیتے ہیں، آخرت میں یہ چیزیں ان کواتنی حقیر دکھائی دیں گی کہ وہ چاہیں گے کہ یہ ساری دنیا اور اس کے برابرایک اور دنیا مل جائے تو وہ ان سب کو صرف عذاب سے بچنے کی خاطر فدیہ میں دے دیں۔


Connections

  • Previous: 13_17
  • Next: 13_19
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes