Recitation

Next: 14_13


Arabic

وَمَا لَنَآ أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى ٱللَّهِ وَقَدۡ هَدَىٰنَا سُبُلَنَاۚ وَلَنَصۡبِرَنَّ عَلَىٰ مَآ ءَاذَيۡتُمُونَاۚ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلۡيَتَوَكَّلِ ٱلۡمُتَوَكِّلُونَ


Urdu

اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جبکہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسا کرنے والوں کا بھروسا اللہ ہی پر ہونا چاہیے


English

And why should we not rely upon Allah while He has guided us to our [good] ways. And we will surely be patient against whatever harm you should cause us. And upon Allah let those who would rely [indeed] rely


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبروں کے مخاطبین نے جب اپنے ہم عصرپیغمبروں کو یہ کہہ کر رد کیا کہ ’’تم تو ہمارے جیسے ایک بشر ہو‘‘ تو اس کی وجہ حقیقۃً یہ نہیں تھی کہ وہ پیغمبری کے لیے غیر بشر ہونے کو ضروری سمجھتے تھے۔ اس کی وجہ دراصل وہ فرق تھا جو ان کے اپنے تصور کے مطابق ان کو پچھلے پیغمبر اور ہم عصر پیغمبر میں نظر آتا تھا۔ گزرا ہوا پیغمبر بھی اگر چہ اپنے وقت میں ویسا ہی تھا جیسا کہ ہم عصرپیغمبر۔ مگر بعد کے دور میں گزرے ہوئے پیغمبروں کے متبعین نے ان کے گرد طلسماتی قصوں کا ہالہ بنا دیا۔ بعد کے دور میں پیغمبروں کی شخصیتوں کو ایسا افسانوی رنگ دے دیاگیا جو ابتداء ً ان کے یہاں موجود نہ تھا۔ اب قوموں کے سامنے ایک طرف فرضی شعبدوں والا پیغمبر تھا، دوسری طرف حقیقی واقعات والا پیغمبر۔ اس تقابل میں پچھلا پیغمبر پیغمبری کے لیے معیاری نمونہ بن گیا۔ اور جب قوموں نے اس معیار کے اعتبار سے دیکھا تو وقت کا حقیقی پیغمبر ان کو ماضی کے افسانوی پیغمبر سے کم نظر آیا۔ چنانچہ انھوںنے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیا۔ پیغمبروں نے اپنے مخاطبین سے کہا کہ تمھاری ان باتوں کے جواب میں ہمارے پاس صبر کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ تم غیر بشریت کی سطح پر ہدایت کے طالب ہو۔ اور خدا نے ہم کو صرف بشریت کی سطح پر ہدایت دینے کی طاقت عطا کی ہے۔ ایسی حالت میں ہم اس کے سوا اور کیا کرسکتے ہیں کہ تمھاری ایذاؤں کو برداشت کریں اور اس سارے معاملہ کو خدا کے حوالے کردیں۔


Connections

  • Previous: 14_11
  • Next: 14_13
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes