Recitation
Next: 14_22
Arabic
وَبَرَزُواْ لِلَّهِ جَمِيعٗا فَقَالَ ٱلضُّعَفَـٰٓؤُاْ لِلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا كُنَّا لَكُمۡ تَبَعٗا فَهَلۡ أَنتُم مُّغۡنُونَ عَنَّا مِنۡ عَذَابِ ٱللَّهِ مِن شَيۡءٖۚ قَالُواْ لَوۡ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ لَهَدَيۡنَٰكُمۡۖ سَوَآءٌ عَلَيۡنَآ أَجَزِعۡنَآ أَمۡ صَبَرۡنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٖ
Urdu
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت اِن میں سے جو دنیا میں کمزور تھے و ہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے “دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟“وہ جواب دیں گے “اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے اب تو یکساں ہے، خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں
English
And they will come out [for judgement] before Allah all together, and the weak will say to those who were arrogant, “Indeed, we were your followers, so can you avail us anything against the punishment of Allah?” They will say, “If Allah had guided us, we would have guided you. It is all the same for us whether we show intolerance or are patient: there is for us no place of escape
Tafsir — Bayan ul Quran
انسان، بطور واقعہ اگر چہ ہر وقت ’’خدا کے سامنے‘‘ ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں آدمی اپنے آپ کو بظاہر خدا کے سامنے نہیں پاتا۔ آخرت میں یہ پردہ ہٹ جائے گا۔ اس وقت آدمی دیکھے گا کہ وہ اس طرح کامل طورپر خدا کے سامنے تھا کہ اس کی کوئی چیز خدا سے چھپی ہوئی نہیں تھی۔ دنیا میں جو لوگ حق کو نظر انداز کرتے ہیں ان کا سب سے بڑا سہارا ان کے مفروضہ اکابر ہوتے ہیں۔ خواہ وہ مُردہ اکابر ہوں یا زندہ اکابر۔ چھوٹے جو کچھ کرتے ہیں اپنے بڑوں کے بَل پر کرتے ہیں۔ آخرت میں جب یہ لوگ اپنے آپ کو بالکل بے بسی کی حالت میں پائیں گے تو وہ اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم تمھاری رہنمائی پر اعتماد كيے ہوئے تھے، اب یہاں بھی تم ہماری کچھ رہنمائی کرو۔ اس کے جواب میں ان کے بڑے اپنے چھوٹوں سے کہیں گے کہ آج کا دن تو اسی لیے آیا ہے کہ وہ ہمارے بے رہنما ہونے کو بے نقاب کرے۔ پھر اب ہم تم کو کیا رہنمائی دے سکتے ہیں۔ ہماری رہنمائی تو محض وقتی فریب تھی جو پچھلی دنیامیں ختم ہوگئی۔ اب تو یہی ہے کہ تم بھی اپنے بھٹکنے کا نتیجہ بھگتو اور ہم بھی اپنی گمراہی کا نتیجہ بھگتیں۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، بہر حال اب ہمارا اس کے سوا کوئی اور انجام نہیں۔