Recitation
Next: 14_36
Arabic
وَإِذۡ قَالَ إِبۡرَٰهِيمُ رَبِّ ٱجۡعَلۡ هَٰذَا ٱلۡبَلَدَ ءَامِنٗا وَٱجۡنُبۡنِي وَبَنِيَّ أَن نَّعۡبُدَ ٱلۡأَصۡنَامَ
Urdu
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے دعا کی تھی کہ “پروردگار، اِس شہر کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا
English
And [mention, O Muhammad], when Abraham said, “My Lord, make this city [Makkah] secure and keep me and my sons away from worshipping idols
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت ابراہیم کے زمانہ تک ملکوںاور قوموں کا یہ حال ہوچکا تھا کہ ہر طرف شرک کا دور دورہ تھا۔ سورج چاند اور دوسرے مظاہر فطرت انسان کی پرستش کا موضوع بنے ہوئے تھے۔ قدیم زمانہ میں زندگی کی تمام سرگرمیوں پر شرک کا اس طرح غلبہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہوگیا۔ بظاہر یہ ناممکن نظر آنے لگا کہ لوگوں کو شرک کی فضا سے نکال کر توحید کے دائرے میں لایا جاسکے۔ اس وقت خدا کے حکم خاص کے تحت حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر عرب کے صحرا میںآئے جو تمدن سے دور بالکل غیر آباد علاقہ تھا۔ آپ نے الگ تھلگ ماحول میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بچہ اسماعیل کو بسایا۔ تاکہ یہاں وقت کے مشرکانہ تسلسل سے کٹ کر ایک نئی نسل تیار ہو۔ جو آزادانہ فضا میں پرورش پاکر اپنی فطرت صحیحہ پر قائم ہوسکے— حضرت ابراہیم کا کلام دعا کے انداز میں اسی خاص حقیقت کو ظاہر کررہا ہے۔ بنواسماعیل کو خشک اور غیر آباد بیابان میں بسانے سے خدا کا منصوبہ یہی تھا۔ اب یہاں کے جن لوگوں نے توحید کو اپنے دل کی آواز بنایا وہ گویا باغ ابراہیم کی صحیح پیداوار تھے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے دوبارہ شرک کا طریقہ اختیار کرلیاوہ اس باغ کی ناقص پیداوار قرار پائیں گے۔