Recitation

Next: 14_38


Arabic

رَّبَّنَآ إِنِّيٓ أَسۡكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيۡرِ ذِي زَرۡعٍ عِندَ بَيۡتِكَ ٱلۡمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ فَٱجۡعَلۡ أَفۡـِٔدَةٗ مِّنَ ٱلنَّاسِ تَهۡوِيٓ إِلَيۡهِمۡ وَٱرۡزُقۡهُم مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمۡ يَشۡكُرُونَ


Urdu

پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے پروردگار، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو اِن کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں


English

Our Lord, I have settled some of my descendants in an uncultivated valley near Your sacred House, our Lord, that they may establish prayer. So make hearts among the people incline toward them and provide for them from the fruits that they might be grateful


Tafsir — Bayan ul Quran

قدیم مکہ جہاں بنو اسماعیل بسائے گئے وہاں کی پہاڑی اور صحرائی دنیا گویا خدا کی معرفت کی قدرتی تربیت گاہ تھی۔ دوسری طرف وہاں انسانی تعمیرات کے اعتبار سے واحد قابل لحاظ نشان کعبۃ اللہ تھا۔ ایک طرف فطرت کاماحول انسان کے اندر خدا کی یاد ابھارنے والا تھا۔ اس کے بعد اپنے قریب اس کو جو نمایاں چیز نظر آتی تھی وہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی بنائی ہوئی پتھروں کی مسجد تھی جس میں داخل ہو کر وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوجائے۔ پھر اس ماحول میں بنو اسماعیل کو معجزاتی طورپر زمزم کے ذریعہ پانی مہیا کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ان کے لیے یہ انتظام کیا گیا کہ ایسی پیدوار سے ان کو رزق ملے جو ان کے قدموں کے نیچے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ گویا ان کو شاکر بنانے کا خصوصی اہتمام تھا۔ غیر معمولی نعمت سے آدمی کے اندر شکر کا غیر معمولی جذبہ ابھرتاہے۔ اور یہی وہ حکمت ہے جو حضرت ابراہیم کی اس دعامیں چھپی ہوئی تھی کہ صحرا میں انھیں پھلوں کی روزی دے ۔


Connections

  • Previous: 14_36
  • Next: 14_38
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes