Recitation
Next: 14_41
Arabic
رَبِّ ٱجۡعَلۡنِي مُقِيمَ ٱلصَّلَوٰةِ وَمِن ذُرِّيَّتِيۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلۡ دُعَآءِ
Urdu
ا ے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار، میری دعا قبول کر
English
My Lord, make me an establisher of prayer, and [many] from my descendants. Our Lord, and accept my supplication
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت ابراہیم کی اس دعا میں وہ تمام جذبات جھلک رہے ہیں جو ایک سچے بندے کے اندر خدا کو پکارتے ہوئے امنڈتے ہیں۔ اس کی عبدیت زور کرتی ہے کہ وہ خدا کے سامنے اپنے عجز کا اقرار کرے۔ جو کچھ مانگے احتیاج کی بنیاد پر مانگے، نہ کہ استحقاق کی بنیاد پر۔ایک طرف وہ ملی ہوئی نعمتوں کا اعتراف کرے اور دوسری طرف ادب کے تمام تقاضوں کے ساتھ اپنی درخواست پیش کرے۔ وہ اقرار کرے کہ خدا دینے والا ہے اور انسان پانے والا۔ وہ اپنے رب سے یہ توفیق مانگے کہ وہ دنیا میں اس کا پرستار بن کررہے۔ اسی کی درخواست وہ اپنے لیے بھی کرے اور اپنے اہل خاندان کے لیے بھی اور اسی کی درخواست تمام مومنین کے لیے بھی۔ دعا کے وقت اس کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ ہو وہ دنیا کا نہ ہو بلکہ آخرت کا ہو جہاںابدی طورپر آدمی کو رہنا ہے۔ ان آداب کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ پیغمبرانہ دعا ہے اور ایسی دعا اگرسچے دل سے نکلے تو وہ ضرور خدا کے یہاں قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔