Recitation

Next: 14_47


Arabic

وَقَدۡ مَكَرُواْ مَكۡرَهُمۡ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكۡرُهُمۡ وَإِن كَانَ مَكۡرُهُمۡ لِتَزُولَ مِنۡهُ ٱلۡجِبَالُ


Urdu

انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں


English

And they had planned their plan, but with Allah is [recorded] their plan, even if their plan had been [sufficient] to do away with the mountains


Tafsir — Bayan ul Quran

آدمی کا حال یہ ہے کہ ایک دن پہلے تک بھی وہ اپنے انجام کا احساس نہیں کرتا۔ اس کو اگر کوئی قوت یا حیثیت حاصل ہو تو وہ اس طرح اکڑتاہے گویا کہ اس کی حیثیت کبھی اس سے چھننے والی نہیں۔ وہ خدا کی دعوت کو ٹھکراتا ہے اور بھول جاتاہے کہ وہ جن چیزوں کے بل پر اس کو ٹھکرا رہا ہے وہ سب خدا ہی کی دی ہوئی ہیں۔ اس کے سامنے دلائل آتے ہیں مگر وہ ان پر دھیان نہیں دیتا۔ ماضی کے سرکشوں کا انجام اس کے سامنے ہوتاہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لیے تھا۔ خود اس کے اپنے لیے کبھی ایسا ہونے والا نہیں۔ موجودہ دنیا میں جن لوگوں کو مواقع حاصل ہیں وہ حق کو نظر انداز کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر موت کے بعد جب وہ اپنی سرکشی کا انجام دیکھیں گے تو ان کو اپنے ماضی پر اس قدر شرم آئے گی کہ وہ چاہیں گے کہ اگر انھیںدوبارہ مہلت ملے تو وہ موجودہ دنیا میںآکر خوداپنی تردید کریں اور اس چیز کو مان لیں جس کا اس سے پہلے انھوں نے فخریہ طورپر انکار کردیا تھا۔ حق کی مخالفت خدا کی مخالفت ہے۔ جس حق کے ساتھ خدا ہو اس کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، خواہ وہ اس کے خلاف اتنی بڑی تیاریوں کے ساتھ آئے ہوں جو پہاڑ کو ہلانے کے لیے بھی کافی ثابت ہو۔


Connections

  • Previous: 14_45
  • Next: 14_47
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes