Recitation

Next: 15_73


Arabic

لَعَمۡرُكَ إِنَّهُمۡ لَفِي سَكۡرَتِهِمۡ يَعۡمَهُونَ


Urdu

تیری جان کی قسم اے نبیؐ، اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے


English

By your life, [O Muhammad], indeed they were, in their intoxication, wandering blindly


Tafsir — Bayan ul Quran

قوم لوط کا یہ حال کیوں ہوا کہ وہ سرکشی میں آپے سے باہر ہوگئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے معاملہ کو حضرت لوط کی نسبت سے دیکھا۔ چونکہ وہ حضرت لوط کے مقابلہ میں طاقت ور تھے۔ اس لیے انھوں نے سمجھا کہ ہم جو چاہیں کریں، کوئی ہمارا کچھ بگاڑنے والا نہیں۔ اگر وہ معاملہ کو اللہ کی نسبت سے دیکھتے تو صورت حال بالکل برعکس ہوتی۔ اب ان کو معلوم ہوتا کہ ان کی سرکشی سراسر مضحکہ خیز ہے۔ کیوں کہ خداکے مقابلہ میں کسی بھی طاقت ور کی کوئی حیثیت نہیں۔ چنانچہ عین صبح کو ان پر کڑک چمک کا شدید طوفان آیا۔ خدا نے ہواؤں کوحکم دیا اور انھوں نے قوم لوط کی بستیوں (سدوم اور عمورہ) پر کنکریوں کی بارش شروع کردی۔ قوم کی قوم تھوڑی دیر میں تباہ ہو کر رہ گئی۔ اس واقعہ میں غور کرنے والوںکے لیے یہ نصیحت ہے کہ اس دنیا میں کسی کا سابقہ حقیقۃً انسان سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اگر آدمی اس حقیقت کو جان لے تو اس کی ساری سرکشی ختم ہوجائے۔


Connections

  • Previous: 15_71
  • Next: 15_73
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes