Recitation

Next: 15_86


Arabic

وَمَا خَلَقۡنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَمَا بَيۡنَهُمَآ إِلَّا بِٱلۡحَقِّۗ وَإِنَّ ٱلسَّاعَةَ لَأٓتِيَةٞۖ فَٱصۡفَحِ ٱلصَّفۡحَ ٱلۡجَمِيلَ


Urdu

ہم نے زمین اور آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے، پس اے محمدؐ، تم (اِن لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو


English

And We have not created the heavens and earth and that between them except in truth. And indeed, the Hour is coming; so forgive with gracious forgiveness


Tafsir — Bayan ul Quran

زمین وآسمان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ پورا نظام حد درجہ حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ یہاں ہر چیز ٹھیک ویسی ہی ہے جیسا کہ اسے ہونا چاہیے۔ اس پورے نظام میں صرف انسان ہے جو خلافِ حقیقت رویہ اختیار کرتاہے۔ انسان اور کائنات میں یہ تضاد تقاضا کرتاہے کہ وہ ختم ہو۔ قیامت کا عقیدہ اس اعتبار سے عین عقلی اور منطقی عقیدہ ہے۔ کیوں کہ قیامت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے جو اس تضاد کو ختم کرنے والی ہو۔ دعوت الی اللہ کے عمل کا ایک اہم جزء ’’اعراض‘‘ ہے۔ یعنی مخاطب جب غیر متعلق بحث اور جھگڑا چھیڑے تو اس کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے اس سے الگ ہوجانا۔ اعراض کا اصول اختیار کيے بغیر دعوت کا کام موثر طورپر نہیں کیا جاسکتا۔ اعراض کی مصلحت یہ ہے کہ مدعو ہمیشہ داعی سے غیر متعلق جھگڑے چھیڑتا ہے۔ اب اگر داعی یہ کرے کہ ہر ایسے موقع پر مدعو سے لڑ جائے تو غیر متعلق امور پر ٹکراؤ تو خوب ہوگا مگر اصل دعوتی کام بغیر ہوئے پڑا رہ جائے گا۔


Connections

  • Previous: 15_84
  • Next: 15_86
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes