Recitation

Next: 16_126


Arabic

ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَ


Urdu

اے نبیؐ، اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو تمہارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پر ہے


English

Invite to the way of your Lord with wisdom and good instruction, and argue with them in a way that is best. Indeed, your Lord is most knowing of who has strayed from His way, and He is most knowing of who is [rightly] guided


Tafsir — Bayan ul Quran

دعوت کا عمل ایک ایسا عمل ہے جو انتہائی سنجیدگی اور خیر خواہی کے جذبہ کے تحت ابھرتاہے۔ خداکے سامنے جواب دہی کا احساس آدمی کو مجبور کرتاہے کہ وہ خدا کے بندوں کے سامنے داعی بن کر کھڑا ہو۔ وہ دوسروںکو اس لیے پکارتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے اگر میں نے ایسا نہ کیا تو میں قیامت کے دن پکڑا جاؤں گا۔ اس نفسیات کا قدرتی نتیجہ ہے کہ آدمی کا دعوتی عمل وہ انداز اختیار کرلیتاہے جس کو حکمت، موعظت حسنہ اور جدال احسن کہاگیاہے۔ حکمت سے مراد دلیل وبرہان ہے۔ کوئی دعوتی عمل اسی وقت حقیقی دعوتی عمل ہے جب کہ وہ ایسے دلائل کے ساتھ ہو جس میں مخاطب کے ذہن کی پوری رعایت شامل ہو۔ مخاطب کے نزدیک، کسی چیز کے ثابت شدہ چیز ہونے کی جوشرائط ہیں،ان شرائط کی تکمیل کے ساتھ جو کلام کیاجائے اسی کو یہاں حکمت کا کلام کہاگیا ہے۔ جس کلام میں مخاطب کی ذہنی وفکری رعایت شامل نہ ہو وہ غیر حکیمانہ کلام ہے۔ اور ایسا کلام کسی کو داعی کا مرتبہ نہیںدے سکتا۔ موعظتِ حسنہ اس خصوصیت کا نام ہے جو درد مندی اور خیر خواہی کی نفسیات سے کسی کے کلام میں پیدا ہوتی ہے۔ جس داعی کا یہ حال ہو کہ خدا کے عظمت وجلال کے احساس سے اس کی شخصیت کے اندر بھونچال آگیا ہو جب وہ خدا کے بارے میں بولے گاتو یقینی طورپر اس کے کلام میں عظمتِ خداوندی کی بجلیاں چمک اٹھیں گی، جو داعی جنت اور جہنم کو دیکھ کر دوسروں کو اسے دکھانے کے لیے اٹھے، اس كے کلام میں یقینی طورپر جنت کی بہاریں اور جہنم کی ہولناکیاں گونجتی ہوئی نظر آئیںگی۔ ان چیزوں کی آمیزش داعی کے کلام کو ایسا بنا دے گی جو دلوں کو پگھلادے اور آنکھوں کو اشک بار کردے۔ دعوتی کلام کی ایجابی خصوصیات یہی دو ہیں— حکمت اور موعظت حسنہ۔ تاہم ہمیشہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ موجود رہتے ہیں جو غیر ضروری بحثیں کرتے ہیں۔ جن کا مقصد الجھانا ہوتا ہے، نہ کہ سمجھنا سمجھانا۔ ایسے لوگوں کے بارے میں مذکورہ قسم کا داعی جو انداز اختیار کرتا ہے، اسی کا نام جِدَال بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ ہے۔ وہ ٹیڑھی بات کا جواب سیدھی بات سے دیتاہے، وہ سخت الفاظ سن کر بھی اپنی زبان سے نرم الفاظ نکالتا ہے۔ وہ الزام تراشی کے مقابلہ میںاستدلال اور تجزیہ کاانداز اختیار کرتا ہے۔ وہ اشتعال کے اسلوب کے جواب میں صبر کا اسلوب اختیار کرتا ہے۔ داعی حق کی نظر سامنے کے انسان کی طرف نہیں ہوتی بلکہ اس خدا کی طرف ہوتی ہے جو سب کے اوپر ہے۔ اس لیے وہ وہی بات کہتا ہے جو خداکے میزان میں حقیقی بات ٹھہرے، نہ کہ انسان کی میزان میں۔


Connections

Tafsir Notes