Recitation
Next: 16_22
Arabic
أَمۡوَٰتٌ غَيۡرُ أَحۡيَآءٖۖ وَمَا يَشۡعُرُونَ أَيَّانَ يُبۡعَثُونَ
Urdu
مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کر کے) اٹھایا جائے گا
English
They are, [in fact], dead, not alive, and they do not perceive when they will be resurrected
Tafsir — Bayan ul Quran
اکثر شرک کی صورت یہ ہوتی ہے کہ پچھلے بزرگوں کو مقدس اور مقرب مان کر لوگ ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ پرستش سراسر احمقانہ ہوتی ہے۔ جن مدفون بزرگوں کی بڑی بڑی قبریں بنا کر لوگ ان سے مرادیں مانگتے ہیں وہ خود مُردہ حالت میں عالم برزخ میں پڑے ہوتے ہیں۔ ان کو خود اپنے بارے میں بھی معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے، کجا کہ وہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔ ’’وہ تکبر کرتے ہیں‘‘ کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا سے تکبر کرتے ہیں۔ زمین وآسمان کے خالق سے تکبر کی جرأت کون کرے گا۔ اس سے مراد دراصل خدا کے داعی سے تکبر ہے نہ کہ خود خدا سے تکبر۔ اللہ کا جو بندہ توحید کا داعی بن کر اٹھتا ہے وہ دنیوی اعتبار سے اپنے مخاطبین کے مقابلہ میں ہمیشہ کم ہوتا ہے۔ کیونکہ مخاطب رواجی مذہب کا حامل ہونے کی وجہ سے وقت کے نقشہ میں اونچا درجہ حاصل کیے ہوئے ہوتاہے۔ جب کہ داعی حق ’’نئے دین‘‘ کا علم بردار ہونے کی بنا پر ان درجات ومقامات سے محروم ہوتاہے۔ وہ مخاطبین کو اپنے مقابلہ میں مادی اعتبار سے کمتر نظرآتاہے۔ چنانچہ ان کے اندر برتری کی نفسیات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اس کی بات کو بے وزن سمجھ کر اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا کیس اگر چہ تکبر کا کیس ہوتاہے لیکن وہ اس کو اصولی اور نظریاتی کیس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ کو لوگوں کی اندرونی نفسیات کا حال خوب معلوم ہے۔ اللہ ان کی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کے ساتھ سلوک کرے گا، نہ کہ ان کی ظاہری باتوں کے اعتبار سے۔