Recitation

Next: 16_37


Arabic

وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّـٰغُوتَۖ فَمِنۡهُم مَّنۡ هَدَى ٱللَّهُ وَمِنۡهُم مَّنۡ حَقَّتۡ عَلَيۡهِ ٱلضَّلَٰلَةُۚ فَسِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ كَانَ عَٰقِبَةُ ٱلۡمُكَذِّبِينَ


Urdu

ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ “اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو” اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے


English

And We certainly sent into every nation a messenger, [saying], “Worship Allah and avoid Taghut.” And among them were those whom Allah guided, and among them were those upon whom error was [deservedly] decreed. So proceed through the earth and observe how was the end of the deniers


Tafsir — Bayan ul Quran

خدا نے کہیں براہِ راست اپنے پیغمبر بھیجے اور کہیں پیغمبر کے نائب اور نمائندہ کے ذریعہ بالواسطہ طورپر اپنا پیغام پہنچانے کا انتظام کیا۔ ان تمام لوگوں نے انسان کو جس چیز کی تلقین کی وہ یہی تھی کہ عبادت کا حق صرف ایک خدا کو ہے۔ شیطان اس عبادت سے انسان کو پھیرنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ شیطانی ترغیبات سے بچے۔ ورنہ وہ آدمی کو جھوٹے معبودوں کی پرستش کے راستے پر ڈال دے گا۔ ہدایت اگر چہ واضح ہے۔ مگر اس کو قبول کرنے یا نہ کرنے کا انحصار تمام تر اس بات پر ہے کہ آدمی اس کے بارے میں کتنا سنجیدہ ہے۔ جو شخص ہدایت پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے گا اس کو اس کی صداقت کو پانے میں دیر نہیں لگے گی۔ مگر جو شخص اس کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو وہ معمولی معمولی باتوں پر اٹک کر رہ جائے گا۔ ایسا آدمی کبھی حق کو نہیں پاسکتا۔


Connections

  • Previous: 16_35
  • Next: 16_37
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes