Recitation
Next: 16_57
Arabic
وَيَجۡعَلُونَ لِمَا لَا يَعۡلَمُونَ نَصِيبٗا مِّمَّا رَزَقۡنَٰهُمۡۗ تَٱللَّهِ لَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَفۡتَرُونَ
Urdu
یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں اُن کے حصے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں خدا کی قسم، ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھوٹ تم نے کیسے گھڑ لیے تھے؟
English
And they assign to what they do not know a portion of that which We have provided them. By Allah, you will surely be questioned about what you used to invent
Tafsir — Bayan ul Quran
پوری تاریخ کا تجربہ ہے کہ آدمی جب کسی ایسی مصیبت میں پڑتا ہے جہاں وہ اپنے کو عاجز محسوس کرنے لگے تو اس وقت وہ خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ منکر اور مشرک دونوں ہی ایسا کرتے ہیں۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ خدا کا تصور انسانی فطرت میں پیوست ہے۔ جب تمام دوسرے علائق کٹ جاتے ہیں تو آخری چیز جو باقی رہتی ہے وہ صرف خدا ہے۔ مگر یہ انسان کی عجیب غفلت ہے کہ جب وہ مصیبت سے نجات پاتاہے تو دوبارہ اپنے فرضی خداؤں کی یاد میں مشغول ہوجاتا ہے۔ وہ ملی ہوئی نعمت کو خدا کے بجائے دوسری دوسری چیزوں کی طرف منسوب کردیتاہے۔ اس کو وہ عظیم سبق یاد نہیں رہتا جو خود اس کی فطرت نے چند لمحہ پہلے اس کو دیا تھا۔ شیطان نے فرضی معبودوں كي معبودیت کے عقیدے کو پختہ کرنے کے لیے طرح طرح کی جھوٹی رسمیں عوام میں رائج کررکھی ہیں۔ ان میں سے ایک ہے— اپنی آمدنی میں فرضی معبودوں کا حصہ نکالنا۔ اس قسم کی رسمیں خدا کی دنیا میں ایک بہتان کی حیثیت رکھتی ہیں کیوں کہ وہ خدا کی طرف سے ملی ہوئی چیز کے لیے غیر خدا کا شکر ادا کرنے کے ہم معنی ہیں۔