Recitation

Next: 16_64


Arabic

تَٱللَّهِ لَقَدۡ أَرۡسَلۡنَآ إِلَىٰٓ أُمَمٖ مِّن قَبۡلِكَ فَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ أَعۡمَٰلَهُمۡ فَهُوَ وَلِيُّهُمُ ٱلۡيَوۡمَ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٞ


Urdu

خدا کی قسم، اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسول بھیج چکے ہیں (اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ) شیطان نے اُن کے برے کرتوت اُنہیں خوشنما بنا کر دکھائے (اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی) وہی شیطان آج اِن لوگوں کا بھی سرپرست بنا ہوا ہے اور یہ دردناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں


English

By Allah, We did certainly send [messengers] to nations before you, but Satan made their deeds attractive to them. And he is the disbelievers’ ally today [as well], and they will have a painful punishment


Tafsir — Bayan ul Quran

رسول کی دعوت جب اٹھتی ہے تو سننے والے محسوس کرتے ہیں کہ یہ ان کے رواجی مذہب سے ٹکرا رہی ہے۔ اب چونکہ وہ اس رواجی مذہب سے مانوس ہوتے ہیں اور اس سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوچکے ہوتے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اس سے لپٹے رہیں۔ اس وقت شیطان انھیں ایسے خوب صورت الفاظ سجھا دیتا ہے جس سے وہ پیغمبر کے دین کوچھوڑنے اور رواجی دین پر قائم رہنے کو درست ثابت کرسکیں۔ آدمی اگر رسول کی بات کو سیدھی طرح مان لے تو یہ خدا کو اپنا ساتھی بنانا ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ خوب صورت تاویلات کا سہارا لے تو یہ شیطان کو اپنا ساتھی بنانا ہوگا۔ پیغمبر آخر الزمان کو بھیج کر خدا نے یہ انتظام کیا تھا کہ لوگ مذہبی اختلافات کے جنگل کے درمیان خدا کے سچے راستے کو معلوم کرسکیں۔ یہی صورت حال آج بھی باقی ہے۔ ایک شخص خدا کے راستے کی تلاش میں ہو اور وہ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرے تو وہ یقیناً ذہنی انتشار میں پڑ جائے گا۔ کیوں کہ مذاہب کی جو تعلیمات آج موجود ہیں ان میں باہم سخت اختلافات ہیں۔ چنانچہ حق کے متلاشی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس چیز کو صحیح سمجھے اور کس چیز کو غلط۔ ایسی حالت میں پیغمبر آخر الزماں کا لایا ہوا دین خدا کے بندوں کے لیے رحمت ہے کیونکہ دوسرے ادیان کے برعکس، آپ کا دین ایک محفوظ دین ہے۔ وہ تاریخی اعتبار سے پوری طرح مستند ہے۔ اس بنا پر پورا اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے جو دین چھوڑا وہی وہ حقیقی دین ہے جو خدا کو اپنے بندوں سے مطلوب ہے۔


Connections

  • Previous: 16_62
  • Next: 16_64
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes