Recitation
Next: 16_76
Arabic
۞ضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا عَبۡدٗا مَّمۡلُوكٗا لَّا يَقۡدِرُ عَلَىٰ شَيۡءٖ وَمَن رَّزَقۡنَٰهُ مِنَّا رِزۡقًا حَسَنٗا فَهُوَ يُنفِقُ مِنۡهُ سِرّٗا وَجَهۡرًاۖ هَلۡ يَسۡتَوُۥنَۚ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِۚ بَلۡ أَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُونَ
Urdu
اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے
English
Allah presents an example: a slave [who is] owned and unable to do a thing and he to whom We have provided from Us good provision, so he spends from it secretly and publicly. Can they be equal? Praise to Allah! But most of them do not know
Tafsir — Bayan ul Quran
مشرکانہ تمثیلات کی غلطی واضح کرنے کے لیے یہاں ایک سادہ اور عام مثال دی گئی ہے۔ ایک شخص ہے جس کے پاس ہر قسم کے اسباب ہیں اور وہ ان کا ذاتی مالک ہے۔ وہیں دوسرا شخص ہے جوکسی بھی چیز کا ذاتی مالک نہیں۔ یہ دونوں آدمی ایک دوسرے سے نوعی طورپر مختلف ہیں۔ اس لیے ایک کی مثال دوسرے پر کبھی چسپاں نہیں ہوگی۔ پھر خدا اور بندے میں یہ نوعی فرق تو اپنے کمال پر پہنچا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ انسان کے واقعات سے خدا پر مثال قائم کی جائے۔اس کائنات میں خدا اور دوسری چیزوں کے درمیان جو تقسیم ہے وہ خالق اور مخلوق کی تقسیم ہے، نہ کہ خدا اور شریکِ خدا کی ۔ خدا کی ہستی وہ ہستی ہے جو ہر قسم کے کمالات کا ذاتی سرچشمہ ہے۔ جو ہر قسم کی نعمتوں کا تنہا بخشنے والا ہے۔ اس کائنات میں سب سے زیادہ خلافِ واقعہ بات یہ ہے کہ خدا کے سوا کسی اور کے لیےوہ چیزیں فرض کی جائیں جن میں کوئی اس کا شریک نہیں۔