Recitation

Next: 16_82


Arabic

وَٱللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّمَّا خَلَقَ ظِلَٰلٗا وَجَعَلَ لَكُم مِّنَ ٱلۡجِبَالِ أَكۡنَٰنٗا وَجَعَلَ لَكُمۡ سَرَٰبِيلَ تَقِيكُمُ ٱلۡحَرَّ وَسَرَٰبِيلَ تَقِيكُم بَأۡسَكُمۡۚ كَذَٰلِكَ يُتِمُّ نِعۡمَتَهُۥ عَلَيۡكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تُسۡلِمُونَ


Urdu

اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں میں تمہارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے شاید کہ تم فرماں بردار بنو


English

And Allah has made for you, from that which He has created, shadows and has made for you from the mountains, shelters and has made for you garments which protect you from the heat and garments which protect you from your [enemy in] battle. Thus does He complete His favor upon you that you might submit [to Him]


Tafsir — Bayan ul Quran

چھت کا اور دوسری چیزوں کا سایہ کتنی اہمیت رکھتا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب آدمی اپنے آپ کوکسی ایسے صحرا میں پائے جہاں کسی قسم کا کوئی سایہ نہ ہو۔ سورج کی حد درجہ حسابی حرارت کا یہ نتیجہ ہے کہ ایک معمولی آڑ بھی ہمیں سایہ دے دیتي ہے۔ حالاں کہ اگر سورج کی حرارت موجودہ حرارت سے زیادہ ہوتی، جو یقینی طورپر ممکن تھی، تو ہمارے تمام سایہ دار گھر آگ کی بھٹی میں تبدیل ہوجاتے۔ پہاڑ جیسی سخت چٹانوں میں ایسے شگاف ہونا جہاں آدمی اپنی پناہ گاہیں بنا سکے۔ دنیا میں ایسی چیزیں موجود ہونا جو باریک ریشوں میں ڈھل کر آدمی کو اس کے جسم کے بچاؤ کے لیے لباس دیں۔ اس قسم کی چیزیں آدمی جیسی مخلوق کے لیے اتنی اہم ہیںکہ اگر وہ نہ ہوتیں تو زمین پر نہ انسان کا وجود ہوتا اور نہ کسی انسانی تہذیب کا۔ یہ معرفت بیک وقت آدمی کے اندر دو چیزیں پیدا کرتی ہے۔ ایک، خدا کے لیے احسان مندی کا جذبہ، کیوں کہ وہی ہے جس نے آدمی کو ایسی قیمتی نعمتیں دیں، دوسري، اندیشہ کا جذبہ، کیوںکہ خدا اگر اپنی نعمتوں کو واپس لے لے تو اس کے بعد آدمی کے پاس ان کی تلافی کی کوئی صورت نہیں۔ یہ احساسات جب آدمی کے اندرون کو اس طرح جگا دیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے گر پڑے تو اسی کا نام عبادت ہے۔


Connections

  • Previous: 16_80
  • Next: 16_82
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes