Recitation

Next: 16_85


Arabic

وَيَوۡمَ نَبۡعَثُ مِن كُلِّ أُمَّةٖ شَهِيدٗا ثُمَّ لَا يُؤۡذَنُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ وَلَا هُمۡ يُسۡتَعۡتَبُونَ


Urdu

(اِنہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جبکہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائیگا نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا


English

And [mention] the Day when We will resurrect from every nation a witness. Then it will not be permitted to the disbelievers [to apologize or make excuses], nor will they be asked to appease [Allah]


Tafsir — Bayan ul Quran

پیغمبر اور پیغمبر کے سچے پیروؤں کا قوموں کے سامنے حق کا داعی بن کر اٹھنا بظاہر ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتاہے۔ دنیا نے عام طورپر ان واقعات کو اتنا کم اہم سمجھا ہے کہ ایک پیغمبر آخر الزماں کو چھوڑ کر کوئی بھی دوسرا پیغمبر نہیں جس کا کام اس کي معاصر تاریخوں میں قابل ذکر قرار پایاہو۔ مگر یہ کام اس وقت بے حد اہم اور بے حد سنگین بن جاتا ہے جب کہ اس کو آخرت سے جوڑ کر دیکھا جائے۔ کیوں کہ آخرت کی عظیم عدالت میں یہی پیغمبر اور داعی خدا کے گواہ ہوں گے اور انھیں کی گواہی پر لوگوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جن افراد کے بارے میں گواہ یہ کہیں گے کہ انھوںنے حق کو مانا اور اپنے آپ کو اس کی اطاعت میں دیا وہ وہاں کی ابدی دنیا میں جنتی قرار پائیں گے۔ اور جن کے بارے میں خدا کے یہ گواہ بتائیں گے کہ انھوںنے حق کا انکار کیا اور اس کی اطاعت پر راضی نہیں ہوئے وہ ابدی جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ کسی قوم میں خدا کے سچے داعی اٹھیں اور وہ قوم ان کی بات نہ مانے تو یہ اس کے مجرم ہونے کا قطعی ثبوت ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ قوم یہ کہنے کا حق کھو دیتی ہے کہ ہم کو قیامت اور جنت دوزخ کی خبر نہ تھی، اس لیے ہم کو آج کے دن سزا سے معاف رکھا جائے۔


Connections

  • Previous: 16_83
  • Next: 16_85
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes