Recitation

Next: 16_94


Arabic

وَلَوۡ شَآءَ ٱللَّهُ لَجَعَلَكُمۡ أُمَّةٗ وَٰحِدَةٗ وَلَٰكِن يُضِلُّ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَلَتُسۡـَٔلُنَّ عَمَّا كُنتُمۡ تَعۡمَلُونَ


Urdu

اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی


English

And if Allah had willed, He could have made you [of] one religion, but He causes to stray whom He wills and guides whom He wills. And you will surely be questioned about what you used to do


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا میں اختلافات ہیں۔ حق اور ناحق ایک دوسرے سے الگ نہیں ہوتے۔ اس کی وجہ خدا کا وہ منصوبہ ہے جس کے تحت اس نے موجودہ دنیا کو بنایا ہے۔ اور وہ منصوبہ امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو جانچ کی غرض سے رکھا گیا ہے۔ یہ مقصد اس کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا تھا کہ ہر آدمی کو ماننے اور نہ ماننے کی آزادی ہو۔ حتیٰ کہ اسے یہ بھی آزادی ہو وہ حق کو ناحق ثابت کرے اور ناحق کو حق کے روپ میں پیش کرے۔ اگر یہ مصلحت نہ ہوتی تو خدا تمام انسانوں کو اسی طرح اپنے حکم کا پابند بنا دیتا جس طرح وہ بقیہ کائنات کو اپنے حکم کا پابند بنائے ہوئے ہے۔ یہ صورت حال قیامت تک کے لیے ہے۔ قیامت کے دن کھل جائے گا کہ کس نے اپنی سمجھ کو صحیح طور پر استعمال کیا اور کس نے اپنے مفاد کی خاطر سچائی کو نظر انداز کیا۔ اس وقت خدا ہر ایک کے ساتھ وہ معاملہ کرے گا جس کا اس نے موجودہ امتحانی مرحلہ میں اپنے كو اہل ثابت کیا تھا۔


Connections

  • Previous: 16_92
  • Next: 16_94
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes