Recitation
Next: (End of Surah)
Arabic
وَقُلِ ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِي لَمۡ يَتَّخِذۡ وَلَدٗا وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ شَرِيكٞ فِي ٱلۡمُلۡكِ وَلَمۡ يَكُن لَّهُۥ وَلِيّٞ مِّنَ ٱلذُّلِّۖ وَكَبِّرۡهُ تَكۡبِيرَۢا
Urdu
اور کہو “تعریف ہے اس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو” اور اس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی
English
And say, “Praise to Allah, who has not taken a son and has had no partner in [His] dominion and has no [need of a] protector out of weakness; and glorify Him with [great] glorification
Tafsir — Bayan ul Quran
جو لوگ سچائی کو گہرائی کے ساتھ پائے ہوئے نہیں ہوتے۔ وہ ہمیشہ ظاہری چیزوں میں الجھے رہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ خدا کو اِس لفظ سے پکارنا افضل ہے اور کوئی کہتا ہے کہ اُس لفظ سے۔ کوئی کہتا ہے کہ فلاں عبادتی فعل زور سے ادا کرنا چاہیے اور کوئی کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سے۔ عرب میں بھی اس قسم کی بحثیں مختلف اندازسے جاری تھیں ۔ فرمایا کہ خدا کو جس بہتر نام سے پکارو و ہ اسی کا نام ہے۔ اسی طرح عبادت کے بارے میں فرمایا کہ خدا کی عبادت کی ادائگی کا انحصار نہ زور سے بولنے پر ہے اور نہ دھیرے بولنے پر۔ تم عبادت کی اصل روح اپنے اندر پیدا کرو اور ا س کی ادائيگی میں اعتدال سے کام لو۔ عبادت کی روح یہ ہے کہ اللہ کی بڑائی کا کامل احساس آدمی کے اندر پیدا ہو جائے۔ اللہ پر ایمان اس کے لیے ایسی کامل اور عظیم ہستی کی دریافت کے ہم معنی بن جائے جس کو کسی سے مدد لینے کی ضرورت نہ ہو، جس کا کوئی شریک اور برابر نہ ہو۔ جس پر کبھی کوئی ایسا حادثہ نہ گزرتا ہو جب کہ وہ کسی کی مدد کا محتاج ہو۔ یہ یافت جب لفظوں کی صورت میں ڈھل کر زبان سے نکلنے لگے تو اسی کا نام تکبیر ہے۔
Connections
- Previous: 17_110
- Next: (End of Surah)
- Thematic: (add links here)