Recitation
Next: 17_21
Arabic
كُلّٗا نُّمِدُّ هَـٰٓؤُلَآءِ وَهَـٰٓؤُلَآءِ مِنۡ عَطَآءِ رَبِّكَۚ وَمَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحۡظُورًا
Urdu
اِن کو بھی اور اُن کو بھی، دونوں فریقوں کو ہم (دنیا میں) سامان زیست دیے جا رہے ہیں، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے، اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے
English
To each [category] We extend - to these and to those - from the gift of your Lord. And never has the gift of your Lord been restricted
Tafsir — Bayan ul Quran
دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی کامیابی، دونوں ہی اللہ کے فراہم کيے ہوئے مواقع اور انتظامات کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہیں۔ جو شخص دنیا کی کامیابی حاصل کرتا ہے وہ بھی خدا کے انتظامات سے فائدہ اٹھا کر ایسا کرتاہے۔ اسی طرح جو شخص آخرت کو اپنا مقصود بنائے اس کے لیے بھی خدا نے ایسے انتظامات کررکھے ہیں جو اس کے آخرت کے سفر کو آسان بنانے والے ہیں۔ دنیا میں کوئی آدمی آگے نظر آتا ہے اور کوئی پیچھے۔ کسی کے پاس زیادہ ہے اور کسی کے پاس کم۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا کی دنیا میں مواقع کی کوئی حد نہیں۔ دنیا میں جو شخص جتنا زیادہ عمل کرتاہے وہ اتنا زیادہ اس کا پھل پاتا ہے۔ اسی طرح آخرت کے لیے جو شخص جتنا زیادہ عمل کا ثبوت دے گا وہ اتنا ہی زیادہ انعام وہاں پائے گا۔ مزید یہ کہ آخرت میں ملنے والی چیز ابدی ہوگی جب کہ دنیا میں ملنے والی چیز صرف وقتی ہوتی ہے۔