Recitation
Next: 17_30
Arabic
وَلَا تَجۡعَلۡ يَدَكَ مَغۡلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبۡسُطۡهَا كُلَّ ٱلۡبَسۡطِ فَتَقۡعُدَ مَلُومٗا مَّحۡسُورًا
Urdu
نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ
English
And do not make your hand [as] chained to your neck or extend it completely and [thereby] become blamed and insolvent
Tafsir — Bayan ul Quran
اسلام ہر معاملہ میں اعتدال کو پسند کرتاہے۔ زیادتی اور کمی سے بچ کر جو درمیانی راستہ ہے وہی اسلام کے نزدیک بہترین راستہ ہے (خَيْرُ الأُمُورِ أَوْسَاطُهَا) السنن الکبریٰ للبیہقی، حدیث نمبر 6319۔چنانچہ یہی تعلیم خرچ کے معاملہ میں بھی دی گئی ہے کہ آدمی نہ تو ایسا کرے کہ اتنا بخیل ہو کہ وہ لوگوں کی نظروں سے گرجائے۔ اور نہ اتنا زیادہ خرچ کرے کہ اس کے بعد بالکل خالی ہاتھ ہو کر بیٹھ رہے۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہیں ہوا (مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ) مسند احمد، حدیث نمبر 4269 مال کے سلسلہ میں بے اعتدالی کا ذہن اکثر اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ آدمی کی نظر سے یہ حقیقت اوجھل ہوجاتی ہے کہ دینے والا خدا ہے۔ وہی اپنے مصالح کے تحت کسی کو کم کردیتاہے اور کسی کو زیادہ ۔ حدیث قدسی میں آیا ہے کہ میرے بندوںمیں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف محتاجی مناسب ہے۔ اگر میں اس کو غنی کردوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے۔ اور میرے بندوں میں کوئی ایسا ہے جس کے لیے صرف امیری مناسب ہے۔ اگر میں اس کو فقیر بنادوں تو اس کے دین میں بگاڑ آجائے (إِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْغِنَى ،لَوْ أَفْقَرْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ مِنْ عِبَادِي الْمُؤْمِنِينَ مَنْ لَا يُصْلِحُ إِيمَانَهُ إِلَّا الْفَقْرُ،لَوْ أَغْنَيْتُهُ لَأَفْسَدَهُ ذَلِكَ) بحر الفوائدللكلاباذی، حدیث نمبر 671 ۔