Recitation
Next: 17_55
Arabic
رَّبُّكُمۡ أَعۡلَمُ بِكُمۡۖ إِن يَشَأۡ يَرۡحَمۡكُمۡ أَوۡ إِن يَشَأۡ يُعَذِّبۡكُمۡۚ وَمَآ أَرۡسَلۡنَٰكَ عَلَيۡهِمۡ وَكِيلٗا
Urdu
تمہارا رب تمہارے حال سے زیادہ واقف ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے
English
Your Lord is most knowing of you. If He wills, He will have mercy upon you; or if He wills, He will punish you. And We have not sent you, [O Muhammad], over them as a manager
Tafsir — Bayan ul Quran
ایک شخص سچے دین کی دعوت دے اور دوسرا شخص اس کو نہ مانے تو داعی کے اندر جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ شخص کیسا ہے کہ کھلی ہوئی صداقت کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کبھی بات اور آگے بڑھتی ہے اور وہ اعلان کربیٹھتا ہے کہ یہ شخص جہنمی ہے۔ اس قسم کا کلام داعی کے لیے کسی حال میں جائز نہیں۔ ایک ہے حق کا پیغام پہنچانا۔ اور ایک ہے پیغام کے رد عمل کے مطابق ہر ایک کو اس کا بدلہ دینا۔ پہلا کام داعی کا ہے اور دوسرا کام خدا کا۔ داعی کو کبھی یہ غلطی نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اپنے دائرہ سے گزر کر خدا کے دائرہ میںداخل ہوجائے۔ اسی طرح کبھی ایسا ہوتا ہے کہ داعی اور مدعو کے درمیان اپنے اپنے مقتداؤں کی فضیلت کی بحث اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ ہر ایک اپنے پیشوا کو دوسرے سے اعلیٰ اور افضل ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو بحث اصول کے دائرہ میں رہنی چاہیے وہ شخصیت کے دائرہ میں چلی جاتی ہے اور تعصبات کو جگا کر قبول حق کی راہ میں مزید رکاوٹ کھڑی کرنے کا سبب بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں کہاگیا کہ یہ خدا کا معاملہ ہے کہ وہ کس کو کیا درجہ دیتاہے۔ تم کو چاہیے کہ اس قسم کی بحث سے اعراض کرتے ہوئے اصل پیغام کو پہنچانے میں لگے رہو۔