Recitation
Next: 17_9
Arabic
عَسَىٰ رَبُّكُمۡ أَن يَرۡحَمَكُمۡۚ وَإِنۡ عُدتُّمۡ عُدۡنَاۚ وَجَعَلۡنَا جَهَنَّمَ لِلۡكَٰفِرِينَ حَصِيرًا
Urdu
ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کا فر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنا رکھا ہے
English
[Then Allah said], “It is expected, [if you repent], that your Lord will have mercy upon you. But if you return [to sin], We will return [to punishment]. And We have made Hell, for the disbelievers, a prison-bed
Tafsir — Bayan ul Quran
حوادث کے نتیجے میں بنی اسرائیل کے اندر رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ ان کی مدد کی۔ اس بار خدا نے شاہ ایران سائرس (خسرو) کو اٹھایا۔ اس نے 539 ق م میں بابل پر حملہ کیا، اور اس کی حکومت کو شکست دے کر اس کے اوپر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد اس نے یہود پر یہ مہربانی کی کہ ان کو دوبارہ بابل سے ان کے وطن فلسطین جانے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ وہ واپس آئے اور ایک عرصہ کے بعد دوبارہ اپنا عبادت خانہ تعمیر کیا۔ تاہم یہود کی نئی نسل میں دوبارہ وہی بگاڑ پیدا ہونے لگا جو ان کی پچھلی نسل میں پیدا ہوا تھا۔ اس درمیان میں ان کے اندر مختلف اتار چڑھاؤ آئے۔ یہاں تک کہ ان کے درمیان حضرت یحیٰ اور حضرت مسیح اٹھے۔ ان پیغمبروں نے یہود کی روش پر تنقیدیں کیں۔ ان کی اس بے دینی کو کھولا جو وہ دین کے نام پر کررہے تھے۔ مگر یہود اس تنقید وتجزیہ کا اثر قبول کرنے کے بجائے بگڑ گئے۔ حتی کہ انھوںنے حضرت یحییٰ کو قتل کردیا اور حضرت مسیح کو سولی پر چڑھانے کے لیے تیار ہوگئے۔ اب دوبارہ ان پر خدا کا غضب بھڑکا۔ 70 ءمیں رومی بادشاہ تیتس (Titus)اٹھا اور اس نے یروشلم پر حملہ کرکے اس کو بالکل تباہ وبرباد کرڈالا۔ یہود کی تاریخ کے یہ واقعات خود یہود کے نزدیک بھی مسلم ہیں۔ مگر یہود جب ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ان کو ظالموں کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ مگر قرآن واضح طورپر ان کو خود یہود کے خانہ میںڈال رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی حالات ہمیشہ اخلاقی حالات کے تابع ہوتے ہیں۔ کوئی ظالم کسی کے اوپر ظلم نہیں کرتا۔ بلکہ قوم کی دینی اور اخلاقی حالت کا بگاڑ لوگوں کو یہ موقع دے دیتاہے کہ وہ اس کو اپنے ظلم و استغلال کا نشانہ بنائیں۔