Recitation
Next: 17_83
Arabic
وَنُنَزِّلُ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِ مَا هُوَ شِفَآءٞ وَرَحۡمَةٞ لِّلۡمُؤۡمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ ٱلظَّـٰلِمِينَ إِلَّا خَسَارٗا
Urdu
ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا
English
And We send down of the Qur’an that which is healing and mercy for the believers, but it does not increase the wrongdoers except in loss
Tafsir — Bayan ul Quran
قرآن خالص سچائی کا اعلان ہے۔ خالص سچائی جب پیش کی جاتی ہے تو ان تمام لوگوں پر اس کی زد پڑتی ہے جو یا تو سچائی سے خالی ہوں یا ملاوٹی سچائی ليے ہوئے ہوں۔ اب جو لوگ حقیقت پسند ہیں ان کے سامنے جب خالص سچائی آتی ہے تو وہ سچائی کو معیار بناتے ہیں، نہ کہ اپنی ذات کو۔ وہ اپنے آپ کو سچائی پر ڈھال لیتے ہیں، نہ یہ کہ خود سچائی کو اپنے اوپر ڈھالنے لگیں۔ اس طرح ان کی سنجیدگی اور حقیقت پسندی ان کے قرآن کو ان کے لیے رحمت بنادیتی ہے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جن کے اندر اپنی بڑائی کا احساس چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ان کے سامنے جب بے آمیز سچائی آتی ہے تو اپنی مخصوصی نفسیات کی بنا پر ان کا ذہن الٹے رخ پر چل پڑتا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچ پاتے کہ ’’اگر میں سچائی کو اختیار کرلوں تو میں سچا بن جاؤں گا‘‘۔ اس کے بجائے کہ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ ’’اگر میں نے سچائی کو مانا تو میں چھوٹا ہوجاؤں گا‘‘۔ وہ جانے والی چیز کی حفاظت میں رہنے والی چیز کو کھو دیتے ہیں۔ وہ اپنی بڑائی کو قائم رکھنے کی خاطر سچائی کو چھوٹا کرنے پر راضی ہوجاتے ہیں۔