Recitation

Next: 17_95


Arabic

وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَبَعَثَ ٱللَّهُ بَشَرٗا رَّسُولٗا


Urdu

لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ “کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟


English

And what prevented the people from believing when guidance came to them except that they said, “Has Allah sent a human messenger


Tafsir — Bayan ul Quran

اس طرح کی آیات کو آج جب ایک آدمی پڑھتا ہے تو اسکو تعجب ہوتاہے کہ وہ کیسے ہٹ دھرم لوگ تھے جنھوں نے پیغمبر اعظم (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا انکار کیا۔ اس تعجب کی وجہ دراصل یہ ہے کہ آج کا ایک آدمی منکرین کا تقابل ’’پیغمبر اعظم‘‘ سے کرتاہے۔ جب کہ دورِ اول کے منکرین کے سامنے جو شخص تھا وہ ایک ایسا شخص تھاجو ابھی تک صرف ’’محمد بن عبد اللہ‘‘ تھا۔ وہ ساری تاریخ اس وقت مستقبل کے پردہ میں چھپی ہوئی تھی جس کے بعد دنیا نے آپ کو پیغمبر اعظم کی حیثیت سے تسلیم کیا۔ پیغمبر اپنے زمانے کے لوگوں کو صرف ایک ’’بشر ‘‘ نظر آتا ہے۔ بعد کو جب تاریخی تصدیقات جمع ہوجاتی ہیں تو لوگوں کو نظر آتا ہے کہ یہ واقعی پیغمبر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ اس کے ہم زمانہ مخاطبین نے اس کا انکار کیا اور بعد کے لوگ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے۔ موجودہ دنیا میں آدمی حالتِ امتحان میں ہے۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ اس کو حق سے باخبر کیا جائے۔ فرشتوں کے ذریعہ حق سے باخبر کرنے کا مطلب حقیقت کوآخری حد تک بے نقاب کردیناہے۔ جب حقیقت کو آخری حد تک بے نقاب کردیا جائے تو اس کے بعد آدمی کا امتحان کس چیز میں ہوگا۔


Connections

  • Previous: 17_93
  • Next: 17_95
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes