Recitation

Next: 17_99


Arabic

ذَٰلِكَ جَزَآؤُهُم بِأَنَّهُمۡ كَفَرُواْ بِـَٔايَٰتِنَا وَقَالُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمٗا وَرُفَٰتًا أَءِنَّا لَمَبۡعُوثُونَ خَلۡقٗا جَدِيدًا


Urdu

یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا “کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟


English

That is their recompense because they disbelieved in Our verses and said, “When we are bones and crumbled particles, will we [truly] be resurrected [in] a new creation


Tafsir — Bayan ul Quran

دنیا میں آدمی اپنی حیثیت مادی کے مطابق جیتا ہے، آخرت میں وہ اپنی حیثیت روحانی کے مطابق نظر آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ دنیا میں راہ سے بے راہ ہوئے وہ قیامت میں اٹھیں گے تو اپنے آپ کو اندھا، بہرا، گونگا پائیں گے۔ ان کا راہ سے بے راہ ہونا اس لیے تھا کہ انھوں نے آنکھ اور کان اور زبان کو اس مقصد میں استعمال نہیں کیا جس کے لیے وہ انھیں دئے گئے تھے۔ انھو ںنے خدا کی نشانیوں کو نہیں دیکھا۔ انھوںنے خدا کے دلائل کو نہیں سنا۔ ان کی زبان حق کی حمایت میں نہیں کھلی۔ وہ آنکھ، کان اور زبان رکھتے ہوئے حق کی نسبت سے بے آنکھ، بے کان اور بے زبان ہوگئے۔ موت کے بعد جب وہ عالم حقیقی میں پہنچیں گے تو وہاں وہ اپنے آپ کو اپنی اصلی صورت میں پائیں گے، نہ کہ اس مصنوعی صورت میں جو حالت امتحان میں ہونے کی وجہ سے وقتی طورپر انھیں موجودہ دنیا میں حاصل تھی۔ ’’جب ہم ریزہ ریزہ ہوجائیں گے‘‘ کہنے والے ایک وہ ہیں جو زبانِ قال سے یہ جملہ دہرائیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو زبانِ حال سے اس کو کہیں۔ یہ دوسرے لوگ وہ ہیں جو آنکھ اور کان اور زبان کو اس کے مقصد تخلیق کے خلاف استعمال کریں اور یہ گمان رکھیں کہ ان کا یہ عمل بس اسی دنیا میں گم ہوکر رہ جائے گا، وہ آخرت میں پہنچنے والا نہیں۔


Connections

  • Previous: 17_97
  • Next: 17_99
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes