Recitation

Next: 18_36


Arabic

وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدٗا


Urdu

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا “میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی


English

And he entered his garden while he was unjust to himself. He said, “I do not think that this will perish - ever


Tafsir — Bayan ul Quran

ایک باغ جو خوب ہرا بھراہو، پھر قدرتی آفت سے اچانک ختم ہوجائے، وہ اس شخص کی تمثیل ہے جو دنیا میں دولت اور عزت پاکر گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کسی انسان کو دولت یا عزت کا جو حصہ ملتاہے وہ خدا کی طرف سے بطور انعام ہوتا ہے۔ مگر ظالم انسان اکثر اس کو اپنے لیے انعام یا اپنی قوت بازو کا حاصل سمجھ لیتاہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سرکشی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو حقیر سمجھنے لگتاہے جن كو دولت اور عزت میں کم حصہ ملا ہو۔ اس کی نفسیات ایسی ہوجاتی ہے كه گویا اس کی دنیا کبھی ختم ہونے والی نہیں۔ اور اگر یہ دنیا ختم ہو کر دوسری دنیا بنی تو کوئی وجہ نہیں کہ وہاںبھی اس کا حال اچھا نہ ہو جس طرح یہاں اس کا حال اچھا ہے۔ یہ امتحان کی حالت پر انعام کی حالت کو قیاس کرناہے۔ حالاں کہ دونوں میں کوئی نسبت نہیں۔


Connections

  • Previous: 18_34
  • Next: 18_36
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes