Recitation
Next: 18_56
Arabic
وَمَا مَنَعَ ٱلنَّاسَ أَن يُؤۡمِنُوٓاْ إِذۡ جَآءَهُمُ ٱلۡهُدَىٰ وَيَسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّهُمۡ إِلَّآ أَن تَأۡتِيَهُمۡ سُنَّةُ ٱلۡأَوَّلِينَ أَوۡ يَأۡتِيَهُمُ ٱلۡعَذَابُ قُبُلٗا
Urdu
اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کوکس چیز نے روک دیا؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کے ساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں
English
And nothing has prevented the people from believing when guidance came to them and from asking forgiveness of their Lord except that there [must] befall them the [accustomed] precedent of the former peoples or that the punishment should come [directly] before them
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میں امتحان کی آزادی ہے۔ اس بنا پر یہاں آدمی حق کا اعتراف نہ کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی عذر پالیتاہے۔ ہر بات کو رد کرنے کے لیے اس کو کچھ نہ کچھ الفاظ مل جاتے ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ ایک کھلی ہوئی دلیل کو بے معنی بحثوں سے کاٹنے کی کوشش کرتاہے۔ کبھی وہ ایسا کرتاہے کہ جو دلیل دی گئی ہے اس کو نظر انداز کرکے ایک اور چیز کا تقاضا کرتاہے جو کسی وجہ سے ابھی پیش نہیں کی گئی۔ اس آخری صورت کی ایک مثال یہ ہے کہ پیغمبر نے اپنے مخاطبین کے سامنے واضح دلائل کے ساتھ اپنا پیغام پیش کیا تو انھوںنے اس پر دھیان نہیں دیا بلکہ اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ کہا کہ انکار کی صورت میں تم ہم کو جس عذاب کی خبر دے رہے ہو وہ کہاں ہے، اس کو لا کر ہمیں دکھاؤ۔