Recitation
Next: 18_79
Arabic
قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيۡنِي وَبَيۡنِكَۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأۡوِيلِ مَا لَمۡ تَسۡتَطِع عَّلَيۡهِ صَبۡرًا
Urdu
اُس نے کہا “بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے
English
[Al-Khidh r] said, “This is parting between me and you. I will inform you of the interpretation of that about which you could not have patience
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت موسیٰ اور حضرت خضر جیسے مقربینِ خدا ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بستی والے مہمان سمجھ کر ان کو کھانا کھلائیں۔ مگر بستی والے کھانا کھلانے سے انکار کردیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی کا صادق اور مقرب ہونا کافی نہیں ہے کہ وہ دیکھنے والوں کو بھی صادق اور مقرب نظر آئے۔ اگر بستی والوں نے ان کو پہچانا ہوتا تو ضرور وہ ان کو اپنا خصوصی مہمان بناتے اور ان سے برکت حاصل کرتے، مگر ان کے معمولی ظاہری حلیہ کی بنا پر انھوںنے ان کو نظر انداز کردیا۔ وہ ان کی اندرونی حقیقت کے اعتبار سے ان کو نہ دیکھ سکے۔ اس ناخوش گوار سلوک کے باوجود حضرت خضر نے بستی والوں کی ایک گرتی ہوئی دیوار سیدھی کردی۔ خدا کے سچے بندوں کا دوسروں سے سلوک جوابی سلوک نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر حال میں وہی ہوتا ہے جو از روئے حق ان کے لیے درست ہے۔