Recitation
Next: 19_39
Arabic
أَسۡمِعۡ بِهِمۡ وَأَبۡصِرۡ يَوۡمَ يَأۡتُونَنَا لَٰكِنِ ٱلظَّـٰلِمُونَ ٱلۡيَوۡمَ فِي ضَلَٰلٖ مُّبِينٖ
Urdu
جب کہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اُس روز تو اُن کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
English
How [clearly] they will hear and see the Day they come to Us, but the wrongdoers today are in clear error
Tafsir — Bayan ul Quran
حضرت مسیح اور دوسرے تمام پیغمبروں نے ایک ہی صراطِ مستقیم کی طرف لوگوں کو بلایا۔ وہ یہ کہ آدمی خدا کو اپنا رب بنائے اور اسی کي عبادت کرے۔ مگر ہمیشہ یہ ہوا کہ خود ساختہ تاویلات وتشریحات کے ذریعہ اس صراطِ مستقیم سے انحراف کیاگیا۔ کسی نے ایک بات نکالی اور کسی نے دوسری بات۔ اس طرح اختلاف پیداہوا اور ایک دین کئی دینوں میں تقسیم ہوگیا۔ دنیا میں حق بات پوری طرح واضح ہے مگر یہاں انسان کو امتحان کی وجہ سے آزادی حاصل ہے۔ وہ چاہے تو مانے اور چاہے تو نہ مانے۔اس وقتی آزادی کی وجہ سے انسان غلط فہمی میں پڑجاتا ہے۔ اور سرکشی کرنے لگتا ہے۔ اس کو دلائل کے ذریعہ بتایا جاتا ہے کہ خدا کی صراط مستقیم کیا ہے۔ مگر وہ اس کو نہیں مانتا۔ لیکن آخرت میں جب آزادی چھن چکی ہوگی، انسان کی وہی آنکھیں اور وہی کان خوب دیکھنے اور سننے والے بن جائیں گے۔ جو آج ایسے معلوم ہوتے ہیں گویا کہ وہ دیکھنا اور سننا جانتے ہی نہ ہوں۔