Recitation
Next: 19_63
Arabic
لَّا يَسۡمَعُونَ فِيهَا لَغۡوًا إِلَّا سَلَٰمٗاۖ وَلَهُمۡ رِزۡقُهُمۡ فِيهَا بُكۡرَةٗ وَعَشِيّٗا
Urdu
وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا
English
They will not hear therein any ill speech - only [greetings of] peace - and they will have their provision therein, morning and afternoon
Tafsir — Bayan ul Quran
موجودہ دنیا میں امتحان کی وجہ سے ہر ایک کو آزادی ملی ہوئی ہے۔ یہاںاچھائی کرنے والے بھی آزاد ہیں اور برائی کرنے والے بھی آزاد۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا میںایک سچے انسان کو کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ وہ ذاتی طورپر خواہ کتنا ہی ٹھیک ہو مگر دوسرے لوگوں کی بے ٹھیک باتیں اس کو سکون لینے نہیں دیتیں۔ لوگ اپنی آزادی سے غلط فائدہ اٹھا کر ماحول کو گندی باتوںاور بری آوازوں سے بھر دیتے ہیں۔ جنت وہ بستی ہے جس سے اس قسم کے تمام انسان خارج کردئے جائیں گے۔ وہاں صرف وہ اعلیٰ ذوق کے لوگ آباد کيے جائیںگے جنھوںنے دنیا میں یہ ثبوت دیا تھا کہ وہ کانٹوں کی مانند نہیں جیتے بلکہ پھول کی مانند رہنا جانتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ماحول میں جو زندگی بنے گی وہ بلاشبہ ابدی سلامتی کی جنت ہوگی۔ دنیا میں لغو چیزوں سے بچنا اور سلامتی کا پیکر بن کر زندگی گزارنا ایک سخت ترین عمل ہے۔ اس کے لیے اپنی آزاد زندگی کو خود اپنے ارادہ سے پابند زندگی بنا لینا پڑتاہے۔ یہ مشکل ترین قربانی ہے جس کا ثبوت صرف وہ شخص دے سکتا ہے جو فی الواقع اللہ سے ڈرتا ہو۔ اللہ سے ڈرنے والے ہی دنیا میں جنتی انسان بن کر رہ سکتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی ابدی جنتوں میں داخل کيے جائیں گے۔