Recitation
Next: 19_66
Arabic
رَّبُّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَا فَٱعۡبُدۡهُ وَٱصۡطَبِرۡ لِعِبَٰدَتِهِۦۚ هَلۡ تَعۡلَمُ لَهُۥ سَمِيّٗا
Urdu
وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں پس تم اُس کے بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ؟
English
Lord of the heavens and the earth and whatever is between them - so worship Him and have patience for His worship. Do you know of any similarity to Him
Tafsir — Bayan ul Quran
اسلامی دعوت جب مخالفت کے دور میں ہو تو یہ داعی کے لیے بڑا سخت مرحلہ ہوتاہے۔ داعی ہر روز چاہتا ہے کہ موجودہ کیفیت کو ختم کرنے کے لیے کوئی نیا اقدام کیا جائے۔ جب کہ خدا کا حکم یہ ہوتا ہے کہ صبر اور انتظار کا طریقہ اختیار کرو۔ ایسی ہی کیفیت ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آئی۔ حالات کی شدت کے پیش نظر آپ خدا کی طرف سے مزید ہدایت کے منتظر تھے۔ مگر ایک روایت کے مطابق تقریباً چالیس دن تک جبریل نہیں آئے۔ پھر جب وہ آئے تو آپ نے کہا کہ اے جبریل ، اتنی دیر کیوں کردی۔ انھوںنے جواب دیا کہ ہم خدا کی مرضی کے پابند ہیں۔ جب خدا کی طرف سے کوئی ہدایت ملتی ہے تو آتے ہیں اور جب ہدایت نہیں ملتی تو نہیںآتے۔ یہ واقعہ بیان کرکے یہاں صبر کی تلقین کی گئی ہے۔ جو صورت حال جاری ہے اس کوخدا پوری طرح دیکھ رہاہے۔ اس کے باوجود اگر اس کی طرف سے نئی ہدایت نہیں آرہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت یہی مطلوب ہے کہ اس صورت حال کو برداشت کیاجائے۔ اگر حکمت کا تقاضا کچھ اور ہوتا تو یقیناً کوئی اور حکم آتا۔ خدا سے زیادہ کوئی جاننے والا نہیں اس لیے خدا سے بہتر کسی کی رہنمائی بھی نہیں ہوسکتی۔ ’’رکنے‘‘ والے حالات میں ’’اقدام‘‘ کی آیت تلاش کرنا صحیح نہیں۔ ایسا کرنا گویا اس حکم کو قبل از وقت اتارنے کی کوشش کرناہے، جو ابھی آدمی کے لیے نہیں اترا۔