Recitation
Next: 2_12
Arabic
وَإِذَا قِيلَ لَهُمۡ لَا تُفۡسِدُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ قَالُوٓاْ إِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُونَ
Urdu
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
English
And when it is said to them, “Do not cause corruption on the earth,” they say, “We are but reformers
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کی اس دنیا میں کامیابی صرف اس شخص کے ليے ہے جو صاحبِ ایمان ہو، جو کسی اور والا نہ ہو کر ایک اللہ والا بن جائے۔ جس کی زندگی اندر سے باہر تک ایمان میں ڈھل گئی ہو۔ جب کسی شخص کو ایمان ملتاہے تو یہ سادہ سی بات نہیں ہوتی۔ یہ اس کی زندگی میںایک انقلاب آنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ اب وہ اللہ کی عبادت کرنے والا اور اس کے آگے جھکنے والا بن جاتا ہے۔ اس کی سنجیدگی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ بے فائدہ مشاغل میں وقت ضائع کرنا اس کو ہلاکت معلوم ہونے لگتا ہے۔ وہ اپنی کمائی کا ایک حصہ خدا کے نام پر نکالتا ہے۔ اور اس سے ضرورت مندوں کی مدد کرتاہے۔ وہ اپنی شہوانی خواہشات کو کنٹرول میں رکھنے والا بن جاتا ہے۔ اور اس کو انھیں حد ود کے اندر استعمال کرتا ہے جو خدا نے اس کے ليے مقرر کردی ہیں۔ وہ دنیا میں ایک ذمہ دار آدمی کی طرح زندگی گزارتا ہے۔ دوسرے کی امانت میں وہ کبھی خیانت نہیں کرتا۔ کسی سے جب وہ کوئی عہد کرلیتا ہے تو وہ کبھی اس کے خلاف نہیںجاتا۔ جن لوگوں کے اندر یہ خصوصیات ہوں وہ اللہ کے مطلوب بندے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے ليے خدا نے جنت الفردوس کی معیاری دنیا تیار کر رکھی ہے۔ موت کے بعد وہ اس کی فضا میں داخل کردئے جائیں گے تاکہ ابدی طورپر اس کے اندر عیش کرتے رہیں۔