Recitation

Next: 2_165


Arabic

إِنَّ فِي خَلۡقِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِ وَٱخۡتِلَٰفِ ٱلَّيۡلِ وَٱلنَّهَارِ وَٱلۡفُلۡكِ ٱلَّتِي تَجۡرِي فِي ٱلۡبَحۡرِ بِمَا يَنفَعُ ٱلنَّاسَ وَمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مِن مَّآءٖ فَأَحۡيَا بِهِ ٱلۡأَرۡضَ بَعۡدَ مَوۡتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِن كُلِّ دَآبَّةٖ وَتَصۡرِيفِ ٱلرِّيَٰحِ وَٱلسَّحَابِ ٱلۡمُسَخَّرِ بَيۡنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلۡأَرۡضِ لَأٓيَٰتٖ لِّقَوۡمٖ يَعۡقِلُونَ


Urdu

(اِس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکا رہے تو) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جوا نسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہے اور اپنے اِسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں


English

Indeed, in the creation of the heavens and earth, and the alternation of the night and the day, and the [great] ships which sail through the sea with that which benefits people, and what Allah has sent down from the heavens of rain, giving life thereby to the earth after its lifelessness and dispersing therein every [kind of] moving creature, and [His] directing of the winds and the clouds controlled between the heaven and the earth are signs for a people who use reason


Tafsir — Bayan ul Quran

انسان کا خدا ایک ہی خدا ہے اور وہی اس قابل ہے کہ وہ انسان کی توجہات کا مرکز بنے۔ ہمارا وجود اور وہ سب کچھ جو ہم کو زمین پر حاصل ہے وہ اسی ليے ہے کہ ہمارا یہ خدا رحمتوں اور مہربانیوں کا خزانہ ہے۔ آدمی کو چاہيے کہ اس کو حقیقی معنوں میں اپنا معبود بنائے۔ وہ اسی کے لیے جيے اور اسی کے لیے مرے اور اپنی تمام امیدوں اور تمناؤں کو ہمیشہ کے لیے اسی کے ساتھ وابستہ کردے۔ جس طرح ایک چھوٹا بچہ اپنا سب کچھ صرف اپنی ماں کو سمجھتا ہے اسی طرح خدا انسان کے لیے اس کا سب کچھ بن جائے۔ ہمارے سامنے پھیلی ہوئی کائنات اللہ کا ایک عظیم الشان تعارف ہے۔ زمین وآسمان کی صورت میں ایک اتھاہ کارخانہ کا موجود ہونا ظاہر کرتاہے کہ ضروراس کا کوئی بنانے والا ہے۔ طرح طرح کے ظاہری اختلاف اور تضاد کے باوجود تمام چیزوں کا حد درجہ ہم آہنگی کے ساتھ کام کرنا ثابت کرتاہے کہ اس کا خالق و مالک صرف ایک ہے۔ کائنات کی چیزوں میں نفع بخشی کی صلاحیت ہونا گویا اس بات کا اعلان ہے کہ اس کی منصوبہ بندی کامل شعور کے تحت بالارادہ کی گئی ہے۔ بظاہر بے جان چیزوں میں قدرتی عمل سے جان اور تازگی کا آجانا بتاتا ہے کہ کائنات میں موت محض عارضی ہے، یہاں ہر موت کے بعد لازماً دوسری زندگی آتی ہے۔ ایک ہی پانی اور ایک ہی خوراک سے قسم قسم کے جان داروں کا ان گنت تعداد میں پایا جانا اللہ کی بےحساب قدرت کا پتہ دیتاہے۔ ہوا کا مکمل طورپر انسان کو اپنے گھیرے میں ليے رہنا بتاتا ہے کہ انسان پوری طرح اپنے خالق کے قبضے میں ہے۔ کائنات کی تمام چیزوں کا انسانی ضرورت کے مطابق سدھا ہوا (customized)ہونا ثابت کرتاہے کہ انسان کا خالق ایک بے حد مہربان ہستی ہے، وہ اس کی ضروریات کا اہتمام اس وقت سے کررہا ہوتا ہے جب کہ اس کا وجود بھی نہیں ہوتا۔ کائنات میں اس قسم کی نشانیاں گویا مخلوقات کے اندر خالق کی جھلکیاں ہیں۔ وہ اللہ کی ہستی کا، اس کے ایک ہونے کا، اس کے تمام صفاتِ کمال کا جامع ہونے کا اتنے بڑے پیمانہ پر اظہار کررہی ہیں کہ کوئی آنکھ والا اس کو دیکھنے سے محروم نہ رہے اور کوئی عقل والا اس کو پانے سے عاجز نہ ہو — دلائل کو وہی شخص پاتا ہے جو دلائل پر غور کرتاہو۔ وہ سچائی کو جاننے کے معاملہ میں سنجیدہ ہو۔ وہ مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر رائے قائم کرتاہو۔ وہ ظاہری چیزوں میںالجھ کر نہ رہ گیا ہو بلکہ ظاہری چیزوں کے پیچھے چھپی ہوئی اصل حقیقت کو جاننے کا حریص ہو۔


Connections

  • Previous: 2_163
  • Next: 2_165
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes