Recitation
Next: 2_168
Arabic
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُواْ لَوۡ أَنَّ لَنَا كَرَّةٗ فَنَتَبَرَّأَ مِنۡهُمۡ كَمَا تَبَرَّءُواْ مِنَّاۗ كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ ٱللَّهُ أَعۡمَٰلَهُمۡ حَسَرَٰتٍ عَلَيۡهِمۡۖ وَمَا هُم بِخَٰرِجِينَ مِنَ ٱلنَّارِ
Urdu
اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں، ہم اِن سے بیزار ہو کر دکھا دیتے یوں اللہ اِن لوگوں کے وہ اعمال جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں، ان کے سامنے اِس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے
English
Those who followed will say, “If only we had another turn [at worldly life] so we could disassociate ourselves from them as they have disassociated themselves from us.” Thus will Allah show them their deeds as regrets upon them. And they are never to emerge from the Fire
Tafsir — Bayan ul Quran
آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ ایک خارجی سہارا چاہتا ہے، ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے اور اس کے لیے اعتماد ویقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے اپنی زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طورپر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے محبت وعقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہوجاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ کسی سے حُبّ شدید کرے، اور جس سے کوئی حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظرنہیں آتاہے اس ليے ظاہر پرست انسان عام طور پرنظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتاہے جو دراصل خدا کو دینا چاہيے۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جو کسی ظاہری خصوصیت کی بنا پر لوگوں کا مرجع بن جاتے ہیں۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقۃ ًاس ليے تھا کہ اس کو رب العالمین سے پُرکیا جائے وہاں وہ کسی سردار یا پیشوا کو بٹھالیتا ہے۔ ایسا اس ليے ہوتا ہے کہ کسی انسان کے گرد کچھ ظاہری ر ونق دیکھ کر لوگ اس کو ’’بڑا‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ کوئی اپنے غیر معمولی شخصی اوصاف سے لوگوں کو متاثر کرلیتاہے۔ کوئی کسی گدی پر بیٹھ کر سیکڑوں سال کی روایات کا وارث بن جاتاہے۔ کسی کے یہاں انسانوں کی بھیڑ دیکھ کر لوگوں کو غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ وہ عام انسانوں سے بلند تر کوئی انسان ہے۔ کسی کے گرد پُراسرار کہانیوں کا ہالہ تیار ہوجاتا ہے اور سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ غیر معمولی قوتوں کا حامل ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ خدا کی اس کائنات میں خدا کے سوا کسی کو کوئی زور یا بڑائی حاصل نہیں۔ انسان کو خدا کا درجہ دینے کا کاروبار اسی وقت تک ہے، جب تک خدا ظاہر نہیںہوتا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی صورت حال اس قدر بدل جائے گی کہ ’’بڑے‘‘ اپنے ’’چھوٹوں‘‘ سے بھاگنا چاہیں گے اور چھوٹے اپنے ’’بڑوں‘‘ سے۔ وہ وابستگی جس پر آدمی دنیا میں فخر کرتاتھا، جس سے وفاداری اور شیفتگی دکھا کر آدمی سمجھتا تھا کہ ا س نے سب سے بڑی چٹان کو پکڑ رکھا ہے وہ آخرت کے دن اس طرح بے معنی ثابت ہوگی جیسے اس کی کوئی حقیقت ہی نہ ہو۔آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا اور کچھ نہ کرسکے گا۔