Recitation

Next: 2_178


Arabic

۞لَّيۡسَ ٱلۡبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ قِبَلَ ٱلۡمَشۡرِقِ وَٱلۡمَغۡرِبِ وَلَٰكِنَّ ٱلۡبِرَّ مَنۡ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَٱلۡيَوۡمِ ٱلۡأٓخِرِ وَٱلۡمَلَـٰٓئِكَةِ وَٱلۡكِتَٰبِ وَٱلنَّبِيِّـۧنَ وَءَاتَى ٱلۡمَالَ عَلَىٰ حُبِّهِۦ ذَوِي ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡيَتَٰمَىٰ وَٱلۡمَسَٰكِينَ وَٱبۡنَ ٱلسَّبِيلِ وَٱلسَّآئِلِينَ وَفِي ٱلرِّقَابِ وَأَقَامَ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَى ٱلزَّكَوٰةَ وَٱلۡمُوفُونَ بِعَهۡدِهِمۡ إِذَا عَٰهَدُواْۖ وَٱلصَّـٰبِرِينَ فِي ٱلۡبَأۡسَآءِ وَٱلضَّرَّآءِ وَحِينَ ٱلۡبَأۡسِۗ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ صَدَقُواْۖ وَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ


Urdu

نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر، مسکینوں او رمسافروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلامو ں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں


English

Righteousness is not that you turn your faces toward the east or the west, but [true] righteousness is [in] one who believes in Allah, the Last Day, the angels, the Book, and the prophets and gives wealth, in spite of love for it, to relatives, orphans, the needy, the traveler, those who ask [for help], and for freeing slaves; [and who] establishes prayer and gives zakah; [those who] fulfill their promise when they promise; and [those who] are patient in poverty and hardship and during battle. Those are the ones who have been true, and it is those who are the righteous


Tafsir — Bayan ul Quran

یہود نے مغرب کو اپنا قبلۂ عبادت بنایا تھا اور نصاریٰ نے مشرق کو۔ دونوں اپنے اپنے قبلے كي سمت کو مقدس سمجھتے تھے۔ دونوں کو بھروسہ تھا کہ انھوں نے خدا کی مقدس سمت کو اپنا قبلہ بنا کر خدا کے یہاں اپنا درجہ محفوظ کرلیا ہے۔ مگر خدا پرستی یہ نہیں ہے کہ آدمی کسی ’’مقدس ستون‘‘ کو تھام لے، خدا پرستی یہ ہے کہ آدمی خود اللہ کے دامن کو پکڑ لے۔ دینی عمل کی اگرچہ ایک ظاہری صورت ہوتی ہے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ اس اللہ کو پالینا ہے جو زمین وآسمان کا نور ہے، جو آدمی کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ اللہ کے یہاں جو چیز کسی کو مقبول بناتی ہے وہ کسی قسم کی ظاہری چیزیں نہیں ہیں بلکہ وہ عمل ہے جوآدمی اپنے پورے وجود کے ساتھ خالص اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اللہ کا مقبول بندہ وہ ہے جو اللہ کو اس طرح پالے کہ اللہ اس کی پوری ہستی میں اترجائے۔ وہ آدمی کے شعور میں شامل ہوجائے۔ وہ اس کے مال ودولت کا مالک بن جائے۔ وہ اس کی یادوں میں سما جائے۔ وہ اس کے کردار پر چھا جائے۔ آدمی اپنے رب کو اس طرح پکڑ لے کہ سخت ترین وقتوں میں بھی خداکی رسّی اس کے ہاتھ سے چھوٹنے نہ پائے۔ اللہ کا حق اس کی سچی وفاداری سے ادا ہوتا ہے، نہ کہ محض اِدھر یااُدھر رُخ کرلینے سے۔ اللہ پر ایمان لانا یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اپنا سب کچھ بنا لے۔ آخرت کے دن پر ایمان یہ ہے کہ آدمی دنیا کے بجائے آخرت کو زندگی کا اصل مسئلہ سمجھنے لگے۔ فرشتوں پر ایمان یہ ہے کہ وہ خدا کے ان کارندوں کو مانے جو خدا کے حکم کے تحت دنیا کا انتظام چلارہے ہیں۔ کتاب پر ایمان یہ ہے کہ آدمی یہ یقین کرے کہ اللہ نے انسان کے لیے اپنا ہدایت نامہ بھیجا ہے جس کی اُسے لازماً پابندی کرنی ہے۔ پیغمبروں پر ایمان یہ ہے کہ اللہ کے ان بندوں کو اللہ کا نمائندہ تسلیم کیا جائے جن کو اللہ نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے چنا۔ پھر یہ ایمانیات آدمی کے اندر اتنی گہری اتر جائیں کہ وہ اللہ کی محبت اور شوق میںاپنا مال ضرورت مندوں کو دے اور انسانوں کو مصیبت سے چھڑائے۔ نماز قائم کرنا اللہ کے آگے ہمہ تن جھک جانا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنا اپنے مال میں خداکے مستقل حصے کا اقرار کرنا ہے۔ ایسا بندہ جب کوئی عہد کرتا ہے تو اس کے بعد وہ اس سے پھرنا نہیں جانتا۔ کیوں کہ وہ ہر عہد کو خدا سے کیا ہوا عہد سمجھتاہے۔ اس کو اللہ کے اوپر اتنا بھروسہ ہوجاتا ہے کہ تنگی اور مصیبت ہو یا جنگ کی نوبت آجائے، ہر حال میں وہ خدا پرستی کے راستہ پر جما رہتا ہے۔ یہ اوصاف جس کے اندر پیدا ہوجائیں وہی سچا مومن ہے اور سچا مومن اللہ سے اندیشہ رکھنے والا ہوتاہے، نہ کہ کسی جھوٹے سہارے پر اعتماد کرکے اس سے نڈر ہوجانے والا۔


Connections

  • Previous: 2_176
  • Next: 2_178
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes