Recitation

Next: 2_183


Arabic

فَمَنۡ خَافَ مِن مُّوصٖ جَنَفًا أَوۡ إِثۡمٗا فَأَصۡلَحَ بَيۡنَهُمۡ فَلَآ إِثۡمَ عَلَيۡهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمٞ


Urdu

البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


English

But if one fears from the bequeather [some] error or sin and corrects that which is between them, there is no sin upon him. Indeed, Allah is Forgiving and Merciful


Tafsir — Bayan ul Quran

قتل کے معاملہ میں اسلام میں قصاص کا اصول مقرر کیا گیاہے۔ یعنی قاتل کے ساتھ وہی کیا جائے جو اس نے مقتول کے ساتھ کیا ہے۔ اس طرح ایک طرف آئندہ کے لیے قتل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔ کیوں کہ اپنی جان کا خوف آدمی کو دوسرے کی جان لینے سے روکتا ہے اور نتیجۃً سب کی جانیں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ قاتل کے قتل سے پورے معاشرہ کے لیے زندگی کی ضمانت پیدا ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف مقتول کے ورثا کا انتقامی جذبہ ٹھنڈا ہو کر سماج میں کسی نئی تخریبی کارروائی کے امکان کو ختم کردیتاہے۔ تاہم قصاص کا معاملہ اسلام میں قابل راضی نامہ ہے۔ يعني مقتول کے ورثاء چاہیں تو قاتل کو قتل کرسکتے ہیں، چاہیں تو دیت (مالی معاوضہ) لے سکتے ہیں اور چاہیں تو معاف کرسکتے ہیں۔ اس گنجائش کا خاص مقصد یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ میںایک دوسرے کو بھائی سمجھنے کی فضا باقی رہے، ایک دوسرے کو حریف سمجھنے کی فضا کسی حال میں پیدا نہ ہو۔ نیز خون بہا کے اصول کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے مقتول کے وارثوں کو اپنے چلے جانے والے فردِ خاندان کا ایک مالی بدل مل جاتا ہے۔ جب کوئی مرجاتا ہے تو یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتاہے کہ اس کی وراثت کا كيا کیا جائے۔ اس سلسلہ میں اسلام کااصول یہ ہے کہ اس کی وراثت کو اس کے رشتہ داروں میں معروف طریقہ سے تقسیم کردیا جائے۔ یہ گویا مال کا تقویٰ ہے۔ جب مرنے والوں کے رشتہ داروں تک حصہ بحصہ اس کا چھوڑا ہوا مال پہنچ جائے تو اس سے معاشرہ میں یہ فضا بنتی ہے کہ ازروئے حق جس کو جو دیا جانا چاہيے وہ دیا جاچکا ہے۔ اس طرح خاندان کے اندر متروکہ مال یا جائداد کے حصول کے لیے باہمی نزاع پیدا نہیں ہوتی، خاندان کا جوشخص قانونی اعتبار سے وارث نہ قرار پاتا ہو، مگر اخلاقی اعتبارسے وہ مستحق ہو تو مرنے والے کو چاہيے کہ وصیت کے ذریعہ اس خلا کو پُر کردے۔ (یہاں وراثت کے بارے میں معروف کے مطابق وصیت کرنے کا حکم ہے۔ آگے سورہ النساء میں ہر ایک کے حصہ کو قانونی طورپر معین کردیاگیا ہے)


Connections

  • Previous: 2_181
  • Next: 2_183
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes