Recitation

Next: 2_220


Arabic

۞يَسۡـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلۡخَمۡرِ وَٱلۡمَيۡسِرِۖ قُلۡ فِيهِمَآ إِثۡمٞ كَبِيرٞ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَإِثۡمُهُمَآ أَكۡبَرُ مِن نَّفۡعِهِمَاۗ وَيَسۡـَٔلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَۖ قُلِ ٱلۡعَفۡوَۗ كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ ٱللَّهُ لَكُمُ ٱلۡأٓيَٰتِ لَعَلَّكُمۡ تَتَفَكَّرُونَ


Urdu

پوچھتے ہیں: شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ کہو: ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر ان کا گناہ اُن کے فائدے سے بہت زیادہ ہے پوچھتے ہیں: ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو


English

They ask you about wine and gambling. Say, “In them is great sin and [yet, some] benefit for people. But their sin is greater than their benefit.” And they ask you what they should spend. Say, “The excess [beyond needs].” Thus Allah makes clear to you the verses [of revelation] that you might give thought


Tafsir — Bayan ul Quran

چند سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہاں کچھ بنیادی اصول بتا ديے گئے ہیں (1)کسی چیز کا نقصان اگر اس کے نفع سے زیادہ ہوتو وہ قابل ترک ہے۔(2) اپنی واقعی ضرورت سے زیادہ جو مال ہو اس کو اللہ کی راہ میں دے دینا چاہيے۔ (3) باہمی معاملات میں ان طریقوں سے بچنا جو کسی بگاڑ کا سبب بن سکتے ہوں اور ان طریقوں کو اختیار کرنا جو اصلاح پیدا کرنے والے ہوں۔ شراب پی کر آدمی کو سرور حاصل ہوتا ہے۔ جوا کھیلنے والے کو کبھی محنت کے بغیر کافی دولت ہاتھ آجاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان چیزوں میں نفع کا پہلو ہے۔ مگر دوسرے اعتبار سے ان کے اندر دینی اور اخلاقی نقصانات ہیں اور یہ نقصانات ان کے نفع سے بہت زیادہ ہیں۔ اس ليے ان سے منع کردیاگیا ۔ کسی چیز کو لینے یا نہ لینے کا یہی معیار زندگی کے دوسرے امور کے لیے بھی ہے۔ مثلاً وہ تمام سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیاں، وہ تمام تقریبات اور جلسے قابل ترک ہیں جن کے بارے میں دینی اور اقتصادی جائزہ بتائے کہ ان میں نفع کم ہے او رنقصان زیادہ۔ مسلمان وہ ہے جو آخرت کو اپنی منزل بنائے، جو اس تڑپ کے ساتھ اپنی صبح وشام کررہا ہو کہ اس کا خدا اس سے راضی ہو جائے۔ ایسے شخص کے لیے دنیا کا سازوسامان زندگی کی ضرورت ہے، نہ کہ زندگی کا مقصد۔ وہ مال حاصل کرتاہے، وہ دنیا کے کاموں میں مشغول ہوتاہے۔ مگر یہ سب کچھ اس کے لیے حاجت اور ضرورت کے درجہ میں ہوتا ہے، نہ کہ مقصد کے درجہ میں۔ اس کے اثاثہ کی جو چیز اس کی حقیقی ضرورت سے زیادہ ہو، اس کا بہترین مصرف اس کے نزدیک یہ ہوتا ہے کہ و ہ اس کو اپنے رب کی راہ میں دے دے، تاکہ وہ اس سے راضی ہو اور اس کو اپنی رحمتوں کے سایہ میں جگہ دے۔ اس کی ہر چیز بقدر حاجت اپنے ليے ہوتی ہے اور حاجت سے جو زیادہ ہو وہ دین کے ليے۔ باہمی معاملات اور کاروبار کے اکثر مسائل اتنے پیچیدہ ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں صرف بنیادی ہدایات دی جاسکتی ہیں۔ ان کی تمام عملی تفصیلات کو قانون کے الفاظ میں متعین نہیں کیا جاسکتا۔ اس سلسلے میں یہ اصول مقرر کردیا گیا کہ اپنی نیت کو درست رکھو اور جو کارر وائی کرو یہ سوچ کر کرو کہ وہ کسی بگاڑ کا سبب نہ بنے۔ بلکہ صاحب معاملہ کے حق میں بہتری پیدا کرنے والی ہو۔ اگر تم دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتے ہوئے اس کے مصالح کی پوری رعایت رکھو گے اور تمھارا مقصود صرف اصلاح و درستگی ہوگا تو اللہ کے یہاں تمھاری پکڑ نہیں۔


Connections

  • Previous: 2_218
  • Next: 2_220
  • Thematic: (add links here)

Tafsir Notes