Recitation
Next: 2_257
Arabic
لَآ إِكۡرَاهَ فِي ٱلدِّينِۖ قَد تَّبَيَّنَ ٱلرُّشۡدُ مِنَ ٱلۡغَيِّۚ فَمَن يَكۡفُرۡ بِٱلطَّـٰغُوتِ وَيُؤۡمِنۢ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱسۡتَمۡسَكَ بِٱلۡعُرۡوَةِ ٱلۡوُثۡقَىٰ لَا ٱنفِصَامَ لَهَاۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
Urdu
دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے صحیح بات غلط خیالات سے ا لگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
English
There shall be no compulsion in [acceptance of] the religion. The right course has become clear from the wrong. So whoever disbelieves in Taghut and believes in Allah has grasped the most trustworthy handhold with no break in it. And Allah is Hearing and Knowing
Tafsir — Bayan ul Quran
خدا کو وہی پاتا ہے جو انفاق کی قیمت دے کر خدا کو اختیار کرے۔ اور کوئی آدمی جب خدا کو پالیتا ہے تو وہ ایک ایسی روشنی کو پالیتا ہے جس میں وہ بھٹکے بغیر چلتا رہے۔ یہاں تک کہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کے برعکس، جو شخص انفاق کی قیمت ديے بغیر خدا کو اختیار کرے وہ ہمیشہ اندھیرے میں رہتاہے۔ جہاں شیطان اس کو بہکا کر ایسے راستوں پر چلاتا ہے جس کی آخری منزل جہنم کے سوا اور کچھ نہیں۔ انفاق سے مراد اپنے آپ کواور اپنے اثاثہ کو دین کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ اپنی مصلحتوں کو قربان کرکے دین کی طرف آگے بڑھنا ہے۔ آدمی جب کسی عقیدہ کو انفاق کی قیمت پر اختیار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کو اختیار کرنے میں سنجیدہ (sincere) ہے۔ یہ سنجیدہ ہونا بے حد اہم ہے۔ کسی معاملہ میں سنجیدہ ہونا ہی وہ چیز ہے جو آدمی پر اس معاملہ کے بھیدوں کو کھولتاہے۔ سنجیدہ ہونے کے بعد ہی یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اور اس کے مقصد کے درمیان حقیقی تعلق قائم ہو، اور مقصد کے تمام پہلو اس پر واضح ہوں۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو اپنی ہستی کی حوالگی کی قیمت پر دین کو اختیار نہ کرے۔ ایسا شخص کبھی دین کے معاملہ میں سنجیدہ نہیں ہوگا، اور اس بنا پر وہ آخرت کے معاملہ کو ایک آسان معاملہ فرض کرلے گا۔ وہ سمجھے گا کہ بزرگوں کی سفارش یا دین کے نام پر کچھ رسمی اور ظاہری کارروائیاں آخرت کي نجات کے لیے کافی ہیں۔ آخرت کے معاملہ میں سنجیدہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس راز کو نہ سمجھے گا کہ آخرت تو مالکِ کائنات کے عظمت و جلال کے ظہور کا دن ہے۔ ایسے ایک دن کے بارے میں محض سرسری چیزوں پر کامیابی کی امید کرلینا خدا کی خدائی کا کمتر اندازہ کرناہے جو خدا کے یہاںآدمی کے جرم کو بڑھانے والا ہے، نہ کہ وہ اس کی مقبولیت کا سبب بنے— خدا کی بات آدمی کے سامنے دلیل کی زبان میں آتی ہے اور وہ کچھ الفاظ بول کر اس کو رد کردیتا ہے۔ یہی شیطانی وسوسہ ہے۔ ہدایت اس کو ملتی ہے جو شیطان کے وسوسہ سے اپنے کو بچائے اور خدائی دلیل کو پہچان کر اس کے آگے جھک جائے۔