Recitation
Next: 2_273
Arabic
۞لَّيۡسَ عَلَيۡكَ هُدَىٰهُمۡ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ يَهۡدِي مَن يَشَآءُۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَلِأَنفُسِكُمۡۚ وَمَا تُنفِقُونَ إِلَّا ٱبۡتِغَآءَ وَجۡهِ ٱللَّهِۚ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ يُوَفَّ إِلَيۡكُمۡ وَأَنتُمۡ لَا تُظۡلَمُونَ
Urdu
لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمے داری تم پر نہیں ہے ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلا ہے آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کرو گے، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی
English
Not upon you, [O Muhammad], is [responsibility for] their guidance, but Allah guides whom He wills. And whatever good you [believers] spend is for yourselves, and you do not spend except seeking the countenance of Allah. And whatever you spend of good - it will be fully repaid to you, and you will not be wronged
Tafsir — Bayan ul Quran
اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی سب سے بڑی مد یہ ہے کہ ان دینی خادموں کی مالی مدد کی جائے جو دین کی جدوجہد میں اپنے کو ہمہ تن لگا دینے کی وجہ سے بے معاش ہوگئے ہوں۔ایک کامیاب تاجر کے پاس کسی دوسرے کام کے لیے وقت نہیں رہتا۔ ٹھیک یہی معاملہ خدمت دین کا ہے۔ جو شخص یک سوئی کے ساتھ اپنے آپ کو دین کی خدمت میں لگائے اس کے پاس معاشی جدوجہد کے لیے وقت نہیں رہے گا۔ مزید یہ کہ ہر کام کی اپنی ایک فطرت ہے اور اپنی فطرت کے لحاظ سے وہ آدمی کا ذہن ایک خاص ڈھنگ پر بناتاہے جو شخص تجارت میں لگتاہے اس کے اندر دھیرے دھیرے تجارتی مزاج پیدا ہوجاتاہے۔ تجارت کی راہ کی باریکیاں فوراً اس کی سمجھ میں آجاتی ہیں۔ جب کہ وہی آدمی دین کے راستہ کی باتوں کو گہرائی کے ساتھ پکڑ نہیں پاتا۔ یہی معاملہ برعکس صورت میں دين كي خدمت كرنے والے کا ہوتا ہے۔ اب اس کا حل کیا ہو۔ کیوں کہ کسی معاشرہ میں دونوں قسم کے کاموں کا ہونا ضروری ہے۔ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ جن لوگوں کے پاس معاشی وسائل جمع ہوگئے ہیں اس میں وہ ان لوگوں کا حصہ بھي لگائیں جو دینی مصروفیت کی وجہ سے اپنی معاشیات فراہم نہ کرسکے۔ یہ گویا ایک طرح کی خاموش تقسیم کار ہے جو طرفین کے درمیان خالص رضائے الٰہی کے لیے وقوع میںآتی ہے۔ خادم دین نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے یکسو کیا تھا، اس ليے وہ انسان سے نہیں مانگتا اور نہ اس سے پانے کا امیدوار رہتاهے۔ دوسری طرف صاحب معاش یہ سوچتاہے کہ میرے پاس معاشی وسائل اس قیمت پر آئے ہیں کہ میں دین کی راہ میں وہ خدمت نہ کرسکا جو مجھ کو کرنا چاہيے تھا۔ اس ليے اس کی تلافی كي صورت يہ ہے کہ میں اپنے مال میںاپنے ان بھائیوں کا حصہ لگاؤں جو گویا میری کمی کی تلافی خداکے یہاں کررہے ہیں۔ جب دین کی جدوجہد اس مرحلہ میں ہو کہ دین کے نام پر معاشی عہدے نہ ملتے ہوں، جب دین کی راہ میں لگنے والا آدمی بے روزگار ہوجائے، اس وقت دین کے خادموں کو اپنا مال دینا بظاہر ماحول کے ایک غیراہم طبقہ سے اپنا رشتہ جوڑنا ہے۔ ایسے افراد پر خرچ کرنا مجلسوں میں قابل تذکرہ نہیںہوتا۔ وہ آدمی کی حیثیت اور ناموری میں اضافہ نہیں کرتا۔ مگر یہی وہ خرچ ہے جو آدمی کو سب سے زیادہ اللہ کی رحمتوں کا مستحق بناتاہے۔